حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 539 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 539

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۳۹ تتمه الہاموں کے ذریعہ سے ہر ایک مقدمہ میں جو میرے پر دائر ہوتا تھا یہی خیال کرتا تھا کہ میں سزا پا کر عذاب الیم میں مبتلا ہو جاؤں گا۔ اور ایسے ہی اُس کو الہام ہوتے تھے جن کو وہ اپنے دوستوں میں شائع کرتا تھا مگر خدا تعالیٰ ہر ایک مقدمہ میں عزت کے ساتھ مجھے بری کرتا گیا۔ اور سخت نامرادی کے ساتھ اُس کو موت آئی ۔ پس اس میں کچھ شک نہیں کہ جب اُس کو طاعون ہوگئی اور موت کو اُس نے اپنے سامنے دیکھ لیا۔ تب اُس نے اپنے تمام الہاموں کو شیطانی کلمات سمجھا ہوگا اور اُس وقت اُس کو اپنی نسبت یاد آیا ہو گا کہ میں غلطی پر تھا۔ یہ بات بالکل غیر معقول اور خلاف قیاس ہے کہ وہ اس قدر ٹھوکریں کھا کر اور وہ طاعون جو میری طرف منسوب کرتا تھا اس میں اپنے تئیں مبتلا دیکھ کر اور میری کامیابیوں کو اپنے آخری دم میں تصور میں لا کر پھر بھی وہ اپنی پہلی حالت پر قائم رہا ہو جب اُس کو یاد آتا ہو گا کہ میں نے موسیٰ ہونے کا دعوی کیا تھا اور اپنی کتاب کا نام عصائے موسیٰ رکھا تھا اور یہ تمنا کی تھی کہ یہ عصا اُس شخص کو ہلاک کر دے گا جو مسیح موعود کا دعویٰ کرتا ہے اور جب اُس کو یاد آتا ہوگا کہ میں نے اس شخص کی نسبت جو مسیح موعود کا دعویٰ کرتا ہے اپنی کتاب عصائے موسیٰ میں پیشگوئی کی تھی کہ وہ میری زندگی میں طاعون سے مرے گا اور جب اُس کو یاد آتا ہوگا کہ میں نے اسی کتاب میں پیشگوئی کی تھی کہ میں نہیں مروں گا جب تک اپنے اس دشمن کو نا بود نہ کرلوں ۔ تو ہر ایک انسان سوچ سکتا ہے کہ اس حالت میں جبکہ طاعون نے اُس کو پکڑا کس قدر در دو حسرت اُس کے دامنگیر ہوتی ہوگی ۔ کون یقین کر سکتا ہے کہ باوجود اس قدر نامرادی کے اور کھل جانے اس بات کے کہ اُس کے سب الہام جھوٹے نکلے پھر بھی طاعون کے وقت اُس کو اپنے موسیٰ ہونے پر یقین تھا؟ نہیں نہیں ہر گز نہیں بلکہ طاعون نے تمام خیالات اُس کے پاش پاش کر دیئے ہوں گے اور متنبہ کر دیا ہو گا کہ وہ غلطی پر تھا چنانچہ اس واقعہ سے بہت پہلے میرے پر خدا نے ظاہر کیا تھا کہ وہ ان خیالات فاسدہ پر قائم نہیں رہے گا اور آخران خیالات سے رجوع کرے گا۔ سواس میں شک نہیں کہ جب اُس کو نا گہانی طاعون اور بے وقت موت کا نظارہ پیش آیا جس کو وہ خوب جانتا تھا کہ یہ بے وقت اور میرے دعوے کے مخالف ہے تو بلا شبہ اس نظارہ نے