حقیقةُ الوحی — Page 538
روحانی خزائن جلد ۲۲ کچھ پروانہیں رکھتے ۔ ۵۳۸ تتمه ہاں یہ بھی ممکن ہے کہ کسی کو کبھی شاذ و نادر کے طور پر کوئی بچی خواب آجائے یا سچا الہام ہو جائے مگر وہ صرف اس قدر سے مامور من اللہ ہیں کہلا سکتا اور نہ یہ کہ سکتے ہیں کہ وہ نفسانی تاریکیوں سے پاک ہے بلکہ اس قدر رویا اور الہام میں قریباً تمام دنیا شریک ہے اور یہ کچھ بھی چیز نہیں اور یہ مادہ کبھی کبھی خواب یا الہام ہونے کا محض اس لئے انسانوں کی فطرت میں رکھا گیا ہے تا ایک عقلمند انسان خدا کے برگزیدہ رسولوں پر بذلنی نہ کر سکے اور سمجھ سکے کہ وحی اور الہام کا ہر ایک انسان کی فطرت میں تخم داخل ہے پھر اس کی کامل ترقی سے انکار کرنا حماقت ہے۔ لیکن وہ لوگ جو خدا کے نزدیک مُلھم اور مُکلّم کہلاتے ہیں اور مکالمہ اور مخاطبہ کا شرف رکھتے ہیں اور دعوت خلق کے لئے مبعوث ہوتے ہیں ان کی تائید میں خدا تعالیٰ کے نشان بارش کی طرح برستے ہیں اور دنیا اُن کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور فعل الہی اپنی کثرت کے ساتھ گواہی دیتا ہے کہ جو کلام وہ پیش کرتے ہیں وہ کلام الہی ہے۔ اگر الہام کا دعوی کرنے والے اس علامت کو مد نظر رکھتے تو وہ اس فتنہ سے بچ جاتے۔ ایسا ہی اگر الہی بخش اس معاملہ میں کچھ سوچتا کہ اُس کی تائید میں خدا تعالیٰ کے نشان کس قدر ظاہر ہوئے اور کس قدر اُس کی تائید اور نصرت ہوئی اور عام لوگوں کی نسبت اُس کو کیا امتیاز بخشا گیا ہے تو وہ اس بلا میں مبتلا نہ ہوتا۔ اب بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی موت کے بعد ایک انبار جھوٹ اور افترا کا چھوڑ گیا۔ میری نسبت وہ یہ الہام پیش کرتا تھا کہ میری زندگی میں یہ شخص طاعون سے ہلاک ہو گا اور اُس کی تمام جماعت منتشر ہو جائے گی سو اُس نے دیکھ لیا کہ وہ خود طاعون سے ہلاک ہوا اور اس کا دعوی تھا کہ وہ نہیں مرے گا جب تک وہ میرا استیصال نہ کر لے مگر اُس نے بچشم خود دیکھ لیا کہ اُس کے جھوٹے الہام کے بعد کئی لاکھ تک میری جماعت پہنچ گئی۔ جب ایسے الہام اُس نے شائع کرنے شروع کئے اُس وقت تو میری جماعت چالیس انسان سے زیادہ نہ تھی اور بعد میں چار لاکھ تک پہنچ گئی اور وہ نہیں مراجب تک اُس نے اپنی نا مرادی ہر ایک پہلو سے نہ دیکھ لی اور میری کامیابی نہ دیکھ لی اور وہ اپنے جھوٹے