حقیقةُ الوحی — Page 525
روحانی ختنه ائن جلد ۲۲ ۵۲۵ تتمه حقيقة ا قدرت ظاہر ہو جائیں۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی یہ زمانہ کسی نے نہیں دیکھا۔ یہ خدا کے فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے اور دراصل یہ آتشی گولہ بھی جو جا بجانمودار ہوا ہے اسی جنگ کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اگر چہ پہلے اس سے معمولی طور پر شہاب ثاقب ٹوٹا کرتے تھے لیکن آج تک دنیا میں یہ خوفناک نظارہ نہیں دیکھا تھا۔ اس قدر خوفناک انگار جو برسائے گئے یہاں تک کہ بعض لوگ ان کے نظارہ سے بیہوش ہو گئے یہ امر صاف دلالت کرتا ہے کہ اب بڑے بڑے شیطانوں کی ہلاکت کا وقت آ گیا ے چنا نچہ تھوڑے دنوں کے بعد دنیا خود دیکھ لے گی کہ ان آتشی انگاروں کے کیسے معنی ظاہر ہوتے ہیں۔ اب میں قبل اس کے کہ اس آتشی انگار کے بارہ میں دوسرے لوگوں کی شہادت پیش کروں وہ (۸۹) بیان لکھتا ہوں کہ جو اخبار انگریزی سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور نے پر چہ ۳ اپریل ۱۹۰۷ء میں اس گولہ کی نسبت لکھا ہے اور وہ یہ ہے۔ کئی نامہ نگاروں نے ہمیں اس شہاب کے متعلق خطوط لکھے ہیں جو اتوار کی شام کو پونے پانچ بجے کے قریب دیکھا گیا۔ یہ نہایت چمکدار تھا اور لاہور میں جب یہ گرتا دیکھا گیا تو اس کے پیچھے ایک بہت لمبی دوہری دھار ایسی تھی جیسے دھواں ہوتا ہے۔ راولپنڈی میں یہ جنوب مشرق کی طرف نظر آیا۔ اس وقت دھوپ نہایت تیز تھی۔ ہمارے بعض نامہ نگار یہ دریافت کرتے ہیں کہ آیا اس سے پہلے بھی کبھی کوئی ایسا شہاب دیکھا گیا ہے جو ان حالات کے ماتحت نظر آیا ہو۔ اور بعض یہ لکھتے ہیں کہ اگر غروب آفتاب کے بعد یہ واقعہ دیکھا جاتا تو اس کی چمک واقعی بے نظیر ہوتی ۔ ( سول اینڈ ملٹری گزٹ لا ہور ۳ اپریل ۱۹۰۷ء) اسی طرح اخبار آرمی نیوز لدھیانہ مورخہ ۶ را پریل ۱۹۰۷ ء کے صفحہ اا کالم ۳ میں اسی شہاب کی نسبت لکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ شہاب ثاقب ۳۱ مارچ ۱۹۰۷ء کو قریباً ۳ بجے بعد دو پہر آسمان سے نازل ہوا جو درج ذیل کرتا ہوں۔ موضع پنوا نہ تحصیل پسرور میں گاؤں کے گوشہ جنوب ومغرب میں کوئی ۲/ امیل کے فاصلہ پر ایک ستارہ ٹوٹا جو کہ آسمان سے ٹوٹتے ہی آگ کی شکل میں ہو کر قریباً ۲۵ گز لمبائی میں جنگل سے گاؤں کی طرف بڑھا۔ گاؤں سے پہلا میل کے فاصلہ پر ہندوؤں کا سمسان ہے اس میں ایک کیکر کا درخت ہے اس درخت پر کوئی دس گز اوپر وہ آگ ۵ منٹ تک لہراتی رہی بعد ازاں سفید رنگ میں بدل کر اتنی موٹی ہوگئی جیسے ایک موٹا بانس ہوتا ہے ۵ منٹ کے بعد وہ آگ تین ٹکڑوں میں منقسم ہو گئی جس کے ٹوٹنے کی آواز کئی توپوں کی