حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 526 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 526

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۲۶ تتمه حقيقة ا آواز کے برابر تھی جس سے تمام جنگل اور گاؤں گونج اُٹھا۔ اور وہ آگ اسی مرگھٹ میں اُس درخت پر غائب ہو گئی۔ بعد ازاں کوئی یہ نہ بجے شام کا وقت تھا۔ پھر ایک ستارہ اُس گاؤں کے جانب شمال میں قریبا ہ کے میل پر جنگل میں ٹوٹا اس کی شکل بھی پہلے کی سی تھی مگر اس کی آواز ٹوٹتے ہی اتنی ہوئی جیسے ایک توپ چلتی ہے۔ سب لوگوں کی نگاہیں اسی میں تھیں ۔ میں خود اس وقت گاؤں سے باہر میل کے فاصلہ پر جانب شمال میں کھڑا تھا۔ آواز کے آتے ہی جو دیکھا کہ ایک آگ سی جیسی بجلی چمکتی ہے گاؤں کی طرف بڑھتی ہوئی دیکھی گئی ۔ گاؤں کے پاس ایک جو ہر ہے وہاں تک میں نے خود جائی دیکھی مگر بعد ازاں لوگوں کی زبانی معلوم ہوا کہ وہ گاؤں میں آکر دھوئیں کی شکل میں بدل کر کچھ تو گاؤں میں غائب ہو گئی اور کچھ آگے کو چلی گئی۔ بعد ازاں شام کا وقت تھا۔ سورج غروب ہونے کی تیاریاں کر رہا تھا پھر ایک گول شکل کی آگ موضع رند ہاوہ ( جو جانب شمال غرب پنوانہ کے واقعہ ہے) کی طرف سے آتا ہوا دکھائی دیا اور گاؤں سے آگے نکل گیا اور سُنا گیا ہے کہ یہ گول آگ بھی ایک ستارہ تھا جس کی 4 میل تک تو یہی خبر ہے کہ ہمارے بھی آگے سے آیا اور آگے معلوم نہیں کہاں تک گیا۔ سنا گیا ہے کہ موضع جود ہالہ تحصیل پسرور میں جو کہ پنوانہ سے چار میل پر ہے وہاں ایک چارہ کے کھیت میں اس کا کچھ حصہ گرا جس سے چارہ کھیت کا جل گیا مگر یہ خبر کچھ معتبر نہیں ہے معلوم نہیں کہ یہ کیا رنگ خدا کا ہے۔ پھر اسی اخبار آرمی نیوز میں اسی جگہ لکھا ہے کہ واقعہ ۳۱ مارچ ۱۹۰۷ء کو ضلع جہلم تحصیل پنڈ دادنخاں موضع چک شادی میں قریب ۱۲ بجے دن کے آسمان پر قریب ۴ فیٹ لمبے اور ۲ فیٹ گول برنگ سُرخ فاصلہ ہال میل پر دو آتشی گولے گرے اور گرتے ہی غائب ہو گئے ۔ نقشه خطوط جو بطور شواہد متعلق پیش گوئی بھی یوم ( جو ایک ہولناک تعجب انگیز گولہ آسمانی کا نشان ظاہر ہونے پر مشتمل تھی جو ا۳ / مارچ ۱۹۰۷ء کو بوقت عصر ظاہر ہوا ) موصول ہوئے ۔ نمبر تاریخ نام فریسنده نام موضع نام تحصیل شمار روانگی خطوط ضلع خلاصه مضمون خط (۱) ۳۱ مارچ سید احمد علی شاه مالومبی پسرور سیالکوٹ آج بوقت ۴ بجے شام مورخه ۳۱ / مارچ ۰۷ ء نشان ١٩٠٧ء سفید پوش آسمانی دیکھا جو تمام عمر میں نہیں دیکھا تھا جنوب کی طرف سے شمال کی طرف کو چھوٹا سا ٹکڑا آگ کا معلوم ہوتا۔