حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 28

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۸ حقيقة الوح ہوتا ہے اور کسی کا بہت زیادہ اور کسی کا اس قدر جو خیال و گمان سے برتر ہے اور کسی کا خدا تعالیٰ سے رابطہ محبت قوی ہوتا ہے اور کسی کا اقوئی ۔ اور کسی کا اس قدر کہ دنیا اُس کو شناخت نہیں کر سکتی اور کوئی عقل اُس کے انتہا تک نہیں پہنچ سکتی ۔ اور وہ اپنے محبوب از لی کی محبت میں اس قدر محو ہوتے ہیں کہ کوئی رگ وریشہ ان کی ہستی اور وجود کا باقی نہیں رہتا اور یہ تمام مراتب کے لوگ بموجب آيت كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ ) اپنے دائرہ استعداد فطرت سے زیادہ ترقی نہیں کر سکتے ۔ اور کوئی اُن میں سے اپنے دائر ک فطرت سے بڑھ کر کوئی نور حاصل نہیں کر سکتا اور نہ کوئی روحانی تصویر آفتاب نورانی کی اپنی فطرت کے دائرہ سے بڑھ کر اپنے اندر لے سکتا ہے اور خدا تعالیٰ ہر ایک کی استعداد فطرت کے موافق اپنا چہرہ اُس کو دکھا دیتا ہے اور فطرتوں کی کمی بیشی کی وجہ سے وہ چہرہ کہیں چھوٹا ہو جاتا ہے اور کہیں بڑا جیسے مثلاً ایک بڑا چہرہ ایک آری کے شیشہ میں نہایت چھوٹا معلوم ہوتا ہے مگر وہی چہرہ ایک بڑے شیشہ میں بڑا دکھائی دیتا ہے مگر شیشہ خواہ چھوٹا ہو خواہ بڑا چہرہ کے تمام اعضاء اور نقوش دکھا دیتا ہے صرف یہ فرق ہے کہ چھوٹا شیشہ پورا مقدار چہرہ کا دکھلا نہیں سکتا۔ سو جس طرح چھوٹے اور بڑے شیشہ میں یہ کمی بیشی پائی جاتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کی ذات اگر چہ قدیم اور غیر متبدل ہے مگر انسانی استعداد کے لحاظ سے اس میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور اس قدر فرق نمودار ہو جاتے ہیں کہ گویا اظہارِ صفات کے لحاظ سے جو زید کا خدا ہے اُس سے بڑھ کر وہ خدا ہے جو بکر کا خدا ہے اور اس سے بڑھ کر وہ جو خالد کا خدا ہے مگر خدا تین نہیں خدا ایک ہی ہے صرف تجلیات مختلفہ کی وجہ سے اس کی شانیں مختلف طور پر ظاہر ہوتی ہیں جیسا کہ موسیٰ اور عیسیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا ایک ہی ہے تین خدا نہیں ہیں مگر مختلف تجلیات کی رو سے اُسی ایک خدا میں تین شانیں ظاہر ہو گئیں چونکہ موسیٰ کی ہمت صرف بنی اسرائیل اور فرعون تک ہی محدود تھی اس لئے موسیٰ پر تجلی قدرت الہی اُسی حد تک محدود رہی اور اگر موسیٰ کی نظر اُس زمانہ اور آئندہ زمانوں کے تمام بنی آدم پر ہوتی تو تو ریت کی تعلیم بھی ایسی الانبياء : ۳۴