حقیقةُ الوحی — Page 27
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۷ اُن میں ظاہر کر دیتا ہے یہاں تک کہ اپنے چہرہ کی تصویر اُن میں کھینچ دیتا ہے جیسا کہ تم (۲۵) دیکھتے ہو کہ ایک مصفا پانی یا مصفا آئینہ کے مقابل پر جب سورج آتا ہے تو اپنی تمام صورت اُس میں ظاہر کر دیتا ہے یہاں تک کہ جیسا کہ آسمان پر سورج نظر آتا ہے ویسا ہی بغیر کسی فرق کے اس مصفا پانی یا آئینہ میں نظر آتا ہے۔ پس روحانی طور پر انسان کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی کمال نہیں کہ وہ اس قدر صفائی حاصل کرے کہ خدا تعالیٰ کی تصویر اُس میں کھینچی جائے ۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے انّی جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَة " یعنی میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔ یہ ظاہر ہے کہ تصویر ایک چیز کی اصل صورت کی خلیفہ ہوتی ہے یعنی جانشین اور یہی وجہ ہے کہ جس جس موقعہ پر اصل صورت میں اعضا واقع ہوتے ہیں اور خط و خال ہوتے ہیں اُسی اُسی موقعہ پر تصویر میں بھی ہوتے ہیں اور حدیث شریف اور نیز توریت میں بھی ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا ۔ پس صورت سے مراد یہی روحانی تشابہ ہے۔ اور پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ جب مثلاً ایک نہایت صاف آئینہ پر آفتاب کی روشنی پڑتی ہے تو صرف اسی قدر نہیں ہوتا کہ آفتاب اس کے اندر دکھائی دیتا ہے بلکہ وہ شیشہ آفتاب کی صفات بھی ظاہر کرتا ہے اور وہ یہ کہ اُس کی روشنی انعکاسی طور پر دوسرے پر بھی پڑ جاتی ہے۔ پس یہی حال روحانی آفتاب کی تصویر کا ہوتا ہے کہ جب ایک قلب صافی اُس سے ایک انعکاسی شکل قبول کر لیتا ہے تو آفتاب کی طرح اُس میں سے بھی شعاعیں نکل کر دوسری چیزوں کو منور کرتی ہیں گویا تمام آفتاب اپنی پوری شوکت کے ساتھ اُس میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور پھر اس جگہ ایک اور نکتہ قابل یادداشت ہے اور وہ یہ کہ تیسری قسم کے لوگ بھی جن کا خدا تعالیٰ سے کامل تعلق ہوتا ہے اور کامل اور مصفا الہام پاتے ہیں قبول فیوض الہیہ میں برابر نہیں ہوتے اور ان سب کا دائرہ استعدا د فطرت با ہم برابر نہیں ہوتا بلکہ کسی کا دائرہ استعداد فطرت کم درجہ پر وسعت رکھتا ہے اور کسی کا زیادہ وسیع البقرة : ٣١