حقیقةُ الوحی — Page 506
کی روحانی خزائن جلد ۲۲ تتمه حقيقة ا ے اور اس مضمون مباہلہ میں میں نے جھوٹے پر بددعا بھی کی تھی اور خدا تعالیٰ سے یہ چاہا تھا کہ خدا جھوٹے کا جھوٹ اپنے فیصلہ سے کھول دے ۔ اور یہ میرا مضمون مباہلہ کا جیسا کہ ابھی لکھ چکا ہوں امریکہ کے چند روزانہ اور نامی اخباروں میں بخوبی شائع ہو گیا تھا۔ اور یہ اخبار میں امریکہ کے عیسائیوں کی تھیں جن کا مجھ سے کچھ تعلق نہ تھا اور کا حاشیہ ۔ میری طرف سے ۲۳ /اگست ۱۹۰۳ء کوڈ وئی کے مقابل پر انگریزی میں یہ اشتہار شائع ہوا تھا جس میں یہ فقرہ ہے کہ میں عمر میں ستر برس کے قریب ہوں اور ڈوئی جیسا کہ وہ بیان کرتا ہے پچاس برس کا جوان ہے لیکن میں نے اپنی بڑی عمر کی کچھ پروانہیں کی کیونکہ اس مباہلہ کا فیصلہ عمروں کی حکومت سے نہیں ہوگا بلکہ خدا جو احکم الحاکمین ہے وہ اس کا فیصلہ کرے گا۔ اور اگر ڈوئی مقابلہ سے بھاگ گیا تب بھی یقینا سمجھو کہ اس کے صیحون پر جلد تر ایک آفت آنے والی ہے۔ اب میں اس مضمون کو اس دعا پر ختم کرتا ہوں کہ اے قادر اور کامل خدا! جو ہمیشہ نبیوں پر ظاہر ہوتا رہا ہے اور ظاہر ہوتا رہے گا یہ فیصلہ جلد کر اور ڈوئی کا جھوٹ لوگوں پر ظاہر کر دے۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جو کچھ اپنی وحی سے تو نے مجھے وعدہ دیا ہے وہ وعدہ ضرور پورا ہوگا ۔اے قادر خدا میری دعا سن لے۔ تمام طاقتیں تجھ کو ہیں ۔ بقيه حاشیه : نمبر نام اخبار مع تاریخ ٹیلیگراف (۲) ارگوناٹ دیکھواشتہار ۲۳ اگست ۱۹۰۳ء بزبان انگریزی_منه خلاصه مضمون مرزا غلام احمد صاحب پنجاب سے ڈوئی کو چیلنج بھیجتے ہیں کہ اے وہ شخص جو مدعی نبوت ۵ جولائی ۱۹۰۳ ء ہے آ اور میرے ساتھ مباہلہ کر ۔ ہمارا مقابلہ دعا سے ہوگا اور ہم دونوں خدا تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ ہم میں سے جو شخص کذاب ہے وہ پہلے ہلاک ہو۔ عنوان انگریزی اور عربی ( یعنی عیسائیت اور اسلام) کا مقابلہ دعا۔ مرزا صاحب کے سان فرانسسکو مضمون کا خلاصہ جو ڈوئی کو لکھا ہے یہ ہے کہ تم ایک جماعت کے لیڈر ہو اور میرے یکم دسمبر ۱۹۰۲ ء بھی بہت سے پیرو ہیں پس اس بات کا فیصلہ کہ خدا کی طرف سے کون ہے ہم میں اس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے خدا سے دعا کرے اور جس کی دعا قبول ہو وہ بچے خدا کی طرف سے سمجھا جاوے۔ دعا یہ ہوگی کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے خدا سے پہلے ہلاک کرے۔ یقینا یہ ایک معقول اور منصفانہ تجویز ہے۔