حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 502 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 502

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۰۲ تتمه حقيقة نص کے نام ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے وَ آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ یعنی آنحضرت کے اصحاب میں سے ایک اور فرقہ ہے جو ابھی ظاہر نہیں ہوا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اصحاب وہی کہلاتے ہیں جو نبی کے وقت میں ہوں اور ایمان کی حالت میں اس کی صحبت سے مشرف ہوں اور اس سے تعلیم اور تربیت پاویں۔ پس اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنے والی قوم میں ایک نبی ہوگا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہوگا اس لئے اس کے اصحاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کہلائیں گے اور جس طرح صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے رنگ میں خدا تعالیٰ کی راہ میں دینی خدمتیں ادا کی تھیں وہ اپنے رنگ میں ادا کریں گے۔ بہر حال یہ آیت آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیشگوئی ہے ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ایسے لوگوں کا نام اصحاب رسول اللہ رکھا جائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہونے والے تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔ آیت ممدوحہ بالا میں یہ تو نہیں فرمایا و اخرين من الأمة بلكه ي فرمايا واخرين منھم اور ہر ایک جانتا ہے کہ منھم کی ضمیر اصحاب رضی اللہ عنہم کی طرف راجع ہے۔ لہذا وہی فرقہ منھم میں داخل ہو سکتا ہے جس میں ایسا رسول موجود ہو کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہے اور خدا تعالیٰ نے آج سے چھبیس برس پہلے میرا نام براہین احمدیہ میں محمد اور (۲۸) احمد رکھا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز مجھے قرار دیا ہے اسی وجہ سے براہین احمدیہ ۔ میں لوگوں کو مخاطب کر کے فرما دیا ہے قل ان کنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله اور نیز فرمایا ہے کل بركة من محمد صلى الله عليه وسلم فتبارك من علّم و تعلم اور اگر کوئی یہ کہے کہ کس طرح معلوم ہوا کہ حدیث لو كان الايمان معلقا بالثريا لناله رجل من فارس اس عاجز کے حق میں ہے اور کیوں جائز نہیں کہ امت محمدیہ میں سے کسی اور کے حق میں ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ براہین احمدیہ میں بار بار اس حدیث کا مصداق الجمعة