حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 26

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۶ حقيقة الوح روشنی پڑتی ہے یہاں تک کہ ایک پاخانہ کی جگہ بھی جو نجاست سے پر ہے اُس سے حصہ لیتی (۲۳) ہے۔ تاہم پورا فیض اُس روشنی کا اُس آئینہ صافی یا آب صافی کو حاصل ہوتا ہے جو اپنی کمال صفائی سے خود سورج کی تصویر کو اپنے اندر دکھلا سکتا ہے۔ اسی طرح بوجہ اس کے کہ خدا تعالیٰ بخیل نہیں ہے اُس کی روشنی سے ہر ایک فیضیاب ہے مگر تا ہم وہ لوگ جو اپنی نفسانی حیات سے مرکر خدا تعالیٰ کی ذات کا مظہر اتم ہو جاتے ہیں اور ظلمی طور پر خدا تعالیٰ اُن کے اندر داخل ہو جاتا ہے اُن کی حالت سب سے الگ ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ اگر چہ سورج آسمان پر ہے لیکن تاہم جب وہ ایک نہایت شفاف پانی یا مصفا آئینہ کے مقابل پر پڑتا ہے تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ وہ اس پانی یا آئینہ کے اندر ہے لیکن دراصل وہ اُس پانی یا آئینہ کے اندر نہیں ہے بلکہ پانی یا آئینہ نے اپنی کمال صفائی اور آب و تاب کی وجہ سے لوگوں کو یہ دکھلا دیا ہے کہ گویا وہ پانی یا آئینہ کے اندر ہے۔ غرض وحی الہی کے انوار کم اور اتم طور پر وہی نفس قبول کرتا ہے جو اکمل اور اتم طور پر تزکیہ حاصل کر لیتا ہے اور صرف الہام اور خواب کا پانا کسی خوبی اور کمال پر دلالت نہیں کرتا۔ جب تک کسی نفس کو بوجہ تزکیہ نام کے یہ انعکاسی حالت نصیب نہ ہو اور محبوب حقیقی کا چہرہ اُس کے نفس میں نمودار نہ ہو جائے ۔ کیونکہ جس طرح فیض عام حضرت احدیت نے ہر ایک کو بجزر شاذ و نادر لوگوں کے جسمانی صورت میں آنکھ اور ناک اور کان اور قوت شامہ اور دوسری تمام قو تیں عطا فرمائی ہیں اور کسی قوم سے بخل نہیں کیا۔ اسی طرح روحانی طور پر بھی اُس نے کسی زمانہ اور کسی قوم کے لوگوں کو روحانی قومٹی کی تخم ریزی سے محروم نہیں رکھا اور جس طرح تم دیکھتے ہو کہ سورج کی روشنی ہر ایک جگہ پڑتی ہے اور کوئی لطیف یا کثیف جگہ اس سے باہر نہیں ہے۔ یہی قانون قدرت روحانی آفتاب کی روشنی کے متعلق ہے کہ نہ کثیف جگہ اُس روشنی سے محروم رہ سکتی ہے اور نہ لطیف جگہ ہاں مصفی اور شفاف دلوں پر وہ نور عاشق ہے جب وہ آفتاب روحانی مصفے چیزوں پر اپنا نور ڈالتا ہے تو اپنا کل نور