حقیقةُ الوحی — Page 464
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۶۴ تتمه حقيق کا ذکر بھی نہیں کرتے اور دوسری شاخ کا ذکر کرتے ہیں یعنی یہ کہ اُس کا داما داب تک زندہ ہے۔ یہ ہے دیانت اُن لوگوں کی کہ جو سچائی ظہور میں آگئی اس کو چھپاتے ہیں اور جس کی ابھی انتظار ہے اس کو بصورت اعتراض پیش کر دیتے ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ احمد بیگ اور اس کے داماد کی نسبت بھی پیشگوئی آتھم کی پیشگوئی کی طرح شرطی تھی اور شرط کے الفاظ جو شائع ہو چکے ہیں یہ ہیں۔ ايتها المرأة توبى توبى فان البلاء على عقبك ۔ اے عورت تو بہ کر تو بہ کر کیونکہ بلا تیری دختر اور دختر کی دختر پر ہے۔ یہ خدا کا کلام ہے جو پہلے سے شائع ہو چکا ہے۔ پھر جبکہ احمد بیگ کی موت نے جو اس پیشگوئی کی ایک شاخ تھی اس کے اقارب کے دلوں میں سخت خوف پیدا کر دیا اور ان کو خیال آیا کہ دوسری شاخ بھی معرض خطر میں ہے کیونکہ ایک ٹانگ اس پیشگوئی کی میعاد کے اندر ٹوٹ چکی تھی تب ان کے دل خوف سے بھر گئے اور صدقہ خیرات دیا اور توبہ استغفار میں مشغول رہے تو خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی میں بھی تاخیر ڈال دی اور جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں ان لوگوں کی خوف کی وجہ یہ تھی کہ یہ پیشگوئی نہ صرف احمد بیگ کے داماد کی نسبت تھی بلکہ خود احمد بیگ کی موت کی نسبت بھی تھی اور پہلا نشانہ اُس پیشگوئی کا وہی تھا بلکہ مقدم بالذات وہی تھا۔ پھر جب احمد بیگ میعاد کے اندر مر گیا اور کمال صفائی سے اس کی نسبت پیشگوئی پوری ہوگئی تب اس کے اقارب کے دل سخت خوف سے بھر گئے اور اتنے روئے کہ ان کی چیخیں اس قصبہ کے کناروں تک جاتی تھیں اور بار بار پیشگوئی کا ذکر کرتے تھے اور جہاں تک اُن سے ممکن تھا تو بہ اور استغفار اور صدقہ خیرات میں مشغول ہوئے تب خدائے کریم نے اس پیشگوئی میں بھی تاخیر ڈال دی۔ یادر ہے کہ مولوی ثناء اللہ نے صرف ان پیشگوئیوں پر اعتراض نہیں کیا بلکہ محض افترا کے طور پر جو نجاست خوری میں داخل ہے میری پیشگوئیوں پر اور حملے بھی کئے ہیں مگر چونکہ خدا تعالیٰ تازہ بتازہ جواب دے رہا ہے اس لئے اس کے افتراؤں کی کچھ بھی پروانہیں ۔ منہ حاشیہ: یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس پیشگوئی کے پورے ہونے کے لئے کوشش کی گئی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ یا تو قرآن شریف سے بے خبر ہیں اور یا اندر ہی اندر جامہ ارتداد پہن لیا ہے۔اے نادانو ! خدا نے پیشگوئیوں کے پورے کرنے کے لئے کوششوں کو حرام نہیں کیا۔ کیا تم کو وہ حدیث بھی یاد نہیں جس میں لکھا ہے کہ حضرت عمر نے ایک پیشگوئی کے پورا کرنے کے لئے ایک صحابی کو سونے کے کڑے پہنا دیئے تھے اور یہ بھی حدیث ہے کہ اگر کوئی رویا دیکھو اور اس کو خود پورا کر سکتے ہو تو اپنی کوشش سے اس خواب کو سچی کر دو ۔ منہ