حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 463 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 463

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۶۳ تتمه حقيقة الوحي امتحان مباہلہ سے پہلے کر لوں گا اور وہ صرف دس سوال ہوں گے کہ متفرق مقامات کتاب حقیقۃ الوحی میں سے اُن سے دریافت کئے جائیں گے تا معلوم ہو کہ اُنہوں نے بغور تمام کتاب کو دیکھ لیا ہے پس اگر انہوں نے ان سوالوں کا جواب کتاب کے موافق دے دیا تو تحریری مباہلہ جانین کی طرف سے شائع ہو جائے گا۔ اگر اس طریق پر وہ راضی ہوں تو ایک نسخہ کتاب حقیقۃ الوحی کا میں ان کی طرف روانہ کروں گا اور روز کا جھگڑا اس سے فیصلہ پا جائے گا اور ان کا اختیار ہوگا کہ کتاب پہنچنے کے بعد امتحان مذکورہ بالا کی تیاری کے لئے ایک دو ہفتہ تک مجھ سے مہلت مانگ لیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ اور ان کے دوسرے بھائی علماء میری تکذیب کے وقت خدا تعالیٰ کی شریعت کی کچھ بھی پروا نہیں کرتے بلکہ اپنی طرف سے ایک نئی شریعت بناتے (۳۱) ہیں ۔ کیا مولوی کہلا کر اُن کو یہ بھی خبر نہیں کہ وعید کی پیشگوئیوں کا تختلف جائز ہے اور جس کسی کے حق میں خدا تعالیٰ وعید کی پیشگوئی کرے اور وہ تو بہ اور تضرع زاری کرے اور شوخی نہ دکھلاوے تو وہ پیشگوئی مل سکتی ہے جیسا کہ قوم کی تضرع اور زاری سے یونس نبی کی پیشگوئی مل گئی جس سے یونس نبی کو بڑا ابتلا پیش آیا اور وہ پیشگوئی کے مل جانے سے رنجیدہ ہوا اس لئے خدا نے اس کو مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا۔ اور جب خدا تعالیٰ کے ایسے تصرفات پر شک کرنے سے ایک مقبول نبی مورد عتاب ہوا اور موت کے قریب اس کی نوبت پہنچی تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا کہ صرف انکار ہی نہیں بلکہ ہزاروں شوخیوں اور بے ادبیوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے ایسے تصرفات سے انکار کرتے ہیں اور نہایت بے باکی سے بار بار کہتے ہیں کہ آتھم کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور شرط کا ذکر بھی نہیں کرتے ۔ کیا یہی دیانت ہے کیا یہی ایمان داری ہے۔ یونس نبی کی پیشگوئی میں تو کوئی شرط بھی نہیں تھی پھر خدا نے قوم کا تضرع اور گریہ و بکا دیکھ کر عذاب کو ٹال دیا۔ اسی طرح مولوی ثناء اللہ صاحب احمد بیگ کے داماد کا بار بار ذکر کرتے ہیں کہ وہ پیشگوئی کے مطابق فوت نہیں ہوا اور ان کو خوب معلوم ہے کہ وہ پیشگوئی دوشاخوں پر مشتمل تھی۔ ایک شاخ احمد بیگ کی نسبت تھی سواحمد بیگ مین پیشگوئی کے مطابق میعاد کے اندر فوت ہو گیا سو افسوس کہ ثناء اللہ اور دوسرے مخالف احمد بیگ کی وفات