حقیقةُ الوحی — Page 462
۴۶۲ تتمه حقيقة الوحي روحانی خزائن جلد ۲۲ کرتا ہے یا ذلت کی مار سے پامال کر دیتا ہے اور اپنی پیشین گوئیوں کے مطابق ایک دنیا کو میری ۳۰ طرف کھینچ رہا ہے اور ہزاروں نشان دکھلاتا ہے اور اس قدر ہر ایک میدان میں اور ہر ایک پہلو سے اور ہر ایک مصیبت کے وقت میں میری مدد کرتا ہے کہ جب تک اُس کی نظر میں کوئی صادق نہ ہوا ایسی مدد اس کی وہ کبھی نہیں کرتا اور نہ ایسے نشان اُس کے لئے ظاہر کرتا ہے ۔ پھر بھی اگر مولوی ثناء اللہ صاحب جو آج کل ٹھٹھے اور ہنسی اور توہین میں دوسرے علماء سے بڑھے ہوئے ہیں اس گندے طریق سے باز نہیں آتے تو میں بخوشی قبول کروں گا اگر وہ مجھ سے درخواست مباہلہ کریں لیکن امرت سر میں یہ مباہلہ نہیں ہو گا۔ ابھی تک مجھے وہ وقت بھولا نہیں جب میں ایک مجمع میں اسلام کی خوبیاں بیان کرنے کے لئے کھڑا ہوا تھا اور ہر ایک کو معلوم ہے کہ اس وقت اس جگہ کے اہل حدیث نے میرے ساتھ کیا معاملہ کیا اور کس طرح شور کر کے اور پورے طور پر سفاہت دکھلا کر میری تقریر بند کرا دی اور جب میں سوار ہوا تو اینٹیں اور پتھر میری طرف چلائے اور حکام کی بھی کچھ پروانہ کی ۔ پس ایسی جگہ مباہلہ کے لئے موزوں نہیں ہاں قادیان موزوں ہے اور اس جگہ میں خود مولوی ثناء اللہ صاحب کی عزت اور جان کا ذمہ وار ہوں اور آمد ورفت کا کل خرچ جو امرتسر سے قادیان تک ہوگا میں ہی دے دوں گا مگر یہ شرط ہوگی کہ دو گھنٹہ تک پہلے میں اپنی سچائی کے وجوہات اُن کو سناؤں گا۔ اور اگر وہ قادیان میں آنا گوارا نہ کریں تو اس طرح بھی مباہلہ ہو سکتا ہے کہ اس کتاب حقیقۃ الوحی میں جو کچھ میں نے اپنی سچائی ثابت کرنے کے دلائل لکھے ہیں ان کی نسبت مولوی ثناء اللہ صاحب کا حمل یہ عجیب بات ہے کہ چودھویں صدی کے سر پر جس قدر بجز میرے لوگوں نے مجدد ہونے کے دعوے کئے تھے جیسا کہ نواب صدیق حسن خان بھوپال اور مولوی عبدالحی لکھنؤ وہ سب صدی کے اوائل دنوں میں ہی ہلاک ہو گئے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اب تک میں نے صدی کا چہارم حصہ اپنی زندگی میں دیکھ لیا ہے اور نواب صدیق حسن خان صاحب اپنی کتاب حجج الکرامہ میں لکھتے ہیں کہ سچا مجدد وہی ہوتا ہے کہ جو صدی کا چہارم حصہ پالے ۔اب اے مخالفو! کسی بات میں تو انصاف کرو آخر خدا سے معاملہ ہے۔ منہ