حقیقةُ الوحی — Page 458
۴۵۸ تتمه حقيقة الوحى روحانی خزائن جلد ۲۲ ختم ہو چکی ہے اور اب ہم ساتھ میں ہزار میں ہیں اور یہ ضرور تھا کہ مثیل آدم جس کو دوسرے لفظوں (۲۶) میں مسیح موعود کہتے ہیں چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو جو جمعہ کے دن کے قائم مقام ہے جس میں آدم پیدا ہوا ۔ اور ایسا ہی خدا نے مجھے پیدا کیا۔ پس اس کے مطابق چھٹے ہزار میں میری پیدائش ہوئی۔ اور یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میں معمولی دنوں کی رو سے بھی جمعہ کے دن پیدا ہوا تھا۔ اور جیسا کہ آدم نر اور مادہ پیدا ہوئے تھے میں بھی تو ام کی شکل پر پیدا ہوا تھا۔ ایک میرے ساتھ لڑکی تھی جو پہلے پیدا ہوئی اور بعد میں اس کے میں پیدا ہوا۔ یہ تو وہ امور ہیں جو میری سوانح پر نظر کر کے طالب حق کو دلائل واضحہ دیتے ہیں مگر سوائے اس کے ہزار ہا اور نشان ہیں جن میں سے بطور نمونہ ہم کچھ لکھ چکے ہیں۔ یادر ہے کہ میرے نشانوں کو سن کر مولوی ثناء اللہ صاحب کی عادت ہے کہ ابو جہلی مادہ کے جوش سے انکار کے لئے کچے حیلے پیش کیا کرتے ہیں چنانچہ اس جگہ بھی انہوں نے یہی عادت دکھلائی اور محض افترا کے طور پر اپنے پرچہ اہل حدیث ۸ فروری ۱۹۰۷ء میں میری نسبت یہ لکھ دیا ہے کہ مولوی عبد الکریم کے صحت یاب ہونے کی نسبت جو اُن کو الہام ہوا تھا کہ وہ ضرور صحت یاب ہو جائے گا مگر آخر وہ فوت ہو گیا۔ اس افترا کا ہم کیا جواب دیں بجز اس کے کہ لعنة الله على الكاذبين - مولوی ثناء اللہ صاحب ہمیں بتادیں کہ اگر مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے صحت یاب ہونے کی نسبت الہام مذکورہ بالا ہو چکا ہے تو پھر یہ الہامات مندرجہ ذیل جو پر چہ اخبار بدر اور احکام میں شائع ہو چکے ہیں کس کی نسبت تھے یعنی کفن میں لپیٹا گیا۔ ۴۷ سال کی عمر انا لله و انا الیه راجعون اُس نے اچھا ہونا ہی نہیں تھا۔ اِنّ الـمـنـايـا لا تطيش سهامها یعنی موتوں کے تیر ٹل نہیں سکتے ۔ واضح ہو کہ یہ سب الہام مولوی عبد الکریم صاحب کی نسبت تھے ۔ ہاں ایک خواب میں اُن کو دیکھا تھا کہ گویا وہ صحت یاب ہیں مگر خوا ہیں تعبیر طلب ہوتی ہیں اور تعبیر کی کتابوں کو دیکھ لو۔ خوابوں کی تعبیر میں کبھی موت سے مراد صحت اور کبھی صحت سے مراد موت ہوتی ہے اور کئی مرتبہ