حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 457 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 457

۴۵۷ تتمه حقيقة الوحي روحانی خزائن جلد ۲۲ کے لئے مقدر ہے یا مسلمانوں کے لئے جو حقیقی متبع ہیں تو پھر کون ایماندار یہ گمان کر سکتا ہے کہ ایک اور شخص جو حضرت عیسی کا مخالف ہے اور اُن کو نبی نہیں جانتا تمام زمین پر اپنا تسلط جمالے گا۔ ایسا (۲۵) خیال تو نص صریح قرآن شریف کے مخالف ہے۔ ایسا ہی گر جاوالی حدیث جو صحیح مسلم میں ہے یعنی یہ کہ گرجا میں سے دجال نکلے گا اس آیت ممدوحہ کی مؤید ہے اور واقعات بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کیونکہ جس عظیم الشان فتنہ کی خبر دی گئی تھی آخر کار وہ پادریوں کے ہاتھ سے ظہور پذیر ہوا۔ انسان کی عقلمندی کی یہ بھی ایک علامت ہے کہ واقعات پر بھی نظر کرے اور سوچ کر دیکھے کہ آثار اور علامات جو پیدا ہوئے ہیں وہ کس پہلو کی تائید کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے اس دنیا کو ایک دن مقرر کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو عصر کے وقت سے تشبیہ دی ہے۔ پھر جب ۱۳۲۴ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ عصر ہوا تو پھر اب تیرہ سو چوالیس برس کے بعد اس زمانہ کا کیا نام رکھنا چاہیے؟ کیا یہ وقت قریب غروب نہیں اور پھر جب قریب غروب ہوا تو مسیح کے نازل ہونے کا اگر یہ وقت نہیں تو پھر اس کے بعد تو کوئی وقت نہیں۔ اسی طرح احادیث صحیحہ میں جو بعض ان کی صحیح بخاری میں پائی جاتی ہیں آنحضرت صلحم کے زمانہ کو عصر سے تشبیہ دی ہے۔ پس اس سے ماننا پڑتا ہے کہ ہمارا زمانہ قیامت کے قرب کا زمانہ ہے اور پھر دوسری حدیثوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عمر دنیا کی سات ہزار سال ہے اور قرآن شریف کی اس آیت سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ے یعنی ایک دن خدا کے نزدیک تمہارے ہزار سال کے برابر ہے۔ پس جبکہ خدا تعالیٰ کی کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ دن سات ہیں۔ پس اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ انسانی نسل کی عمر سات ہزار سال ہے جیسا کہ خدا نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ سورۃ العصر کے عدد جس قدر حساب جمل کی رو سے معلوم ہوتے ہیں اسی قدر زمانہ نسل انسان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک تک بحساب قمری گذر چکا تھا کیونکہ خدا نے حساب قمری رکھا ہے اور اس حساب سے ہماری اس وقت تیک نسل انسان کی عمر چھ ہزار برس تک الحج :۴۸