حقیقةُ الوحی — Page 456
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۵۶ تتمه حقيقة الوحي دنوں میں پادریوں کے دروازہ پر گداگری اختیار نہ کرتا جولوگ اپنے کالجوں اور سکولوں میں لازمی طور پر خلاف اسلام تعلیم دیتے ہیں کسی بچے مسلمان کا طریق نہیں کہ ان کی نوکری اختیار کرے۔ افسوس کہ یہ شخص سعد اللہ نام جو فوت ہو گیا ہے وہ بعض میرے تقریری مباحثات بھی سن چکا تھا اور اُس کو میری کتابیں دیکھنے کا بھی بہت موقعہ ملا تھا۔ مگر تعصب اور بغض ایک ایسی بلا ہے کہ وہ اُن سے کچھ فائدہ اُٹھا نہ سکا ۔ حضرت عیسی علیہ السلام کا وفات پانا کوئی مشتبہ امر نہ تھا خدا تعالی قرآن شریف میں بیان کر چکا اور اُس کا رسول معراج کی رات میں وفات یافتہ نبیوں میں اس کو دیکھ چکا تھا دوسری طرف قرآن اور حدیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ سب خلیفے اسلام کے اسی اُمت میں سے آئیں گے بلکہ حدیثوں میں یہ بھی آچکا ہے کہ نازل ہونے والا عیسی اسی اُمت میں سے ہے۔ پھر بھی وہ بد قسمت سمجھ نہ سکا اور پہلی کتابوں اور احادیث صحیحہ میں بڑا نشان آخری مسیح کا یہ دیا گیا تھا کہ وہ دجال کے ظہور کے وقت آئے گا اور قرآن شریف نے ظاہر کر دیا کہ وہ دجالی " پادریوں کا فرقہ ہے جن کا دن رات کام تحریف و تبدیل ہے کیونکہ دجال کے یہی معنے ہیں جو تحریف و تبدیل کر کے حق کو چھپانے والا ہو اور اسی کی طرف سورۃ فاتحہ اشارہ کرتی ہے ایسا ہی قرآن شریف کی اس آیت سے کہ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ - ثابت ہوتا ہے کہ دجال عیسائیوں کے سوا کوئی علیحدہ گروہ نہیں ہوگا کیونکہ جب کہ غلبہ اور سلطنت قیامت تک عیسائیوں ہیں دجال کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ جو شخص دھوکہ دینے والا اور گمراہ کرنے والا اور خدا کے کلام کی تحریف کرنے والا ہو اس کو دجال کہتے ہیں۔سو ظاہر ہے کہ پادری لوگ اس کام میں سب سے بڑھ کر ہیں کیونکہ دوسروں کا دجل اور فریب تو کمتر درجہ پر ہے مگر ان لوگوں کا دجل اس قدر ہے کہ خواہ نخواہ انسان کو خدا بنانے کے لئے کروڑ ہا روپیہ خرچ کر رہے ہیں اور لاکھوں رسالے اور کتا بیں دنیا میں شائع کی ہیں اور اسی غرض سے زمین کے کناروں تک سفر کرتے ہیں پس اسی وجہ سے وہ دجال اکبر ہیں اور خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق دوسرے کسی دجال کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ لکھا ہے کہ دجال گر جا سے نکلے گا اور جس قوم میں سے ہوگا وہ قوم تمام دنیا میں سلطنت کرے گی اور قیامت تک ان کی طاقت اور قوت رہے گی ۔ پھر جبکہ یہ حال ہے تو کون سی زمین باقی رہی جس میں ہمارے مخالفوں کا فرضی دجال ظہور کرے گا۔ منہ ال عمران: ۵۶