حقیقةُ الوحی — Page 445
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۴۵ تتمه حقيقة الوحى ویسا ہی یہ پیشگوئی بھی ظہور میں آگئی جو خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ظاہر فرمائی کیونکہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں اُسی روز سے جبکہ خدا تعالیٰ نے اس کی نسبت مجھے یہ خبر دی کہ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ جس کو آج تک بارہ برس گزر گئے اُسی وقت سے اولاد کا دروازہ سعد اللہ پر بند کیا گیا اور اس کی بددعاؤں کو اُسی کے منہ پر مار کر خدا تعالیٰ نے تین لڑ کے بعد اس الہام کے مجھ کو دئیے اور کروڑہا انسانوں میں مجھے عزت کے ساتھ شہرت دی اور اس قدر مالی فتوحات اور آمدنی نقد اور جنس اور طرح طرح کے تحائف مجھ کو دیئے گئے کہ اگر وہ سب جمع کئے ۱۴ جاتے تو کئی کو ٹھے اُن سے بھر سکتے تھے۔ سعد اللہ چاہتا تھا کہ میں اکیلا رہ جاؤں کوئی میرے ساتھ نہ ہو پس خدا تعالیٰ نے اس آرزو میں اس کو نا مرا در کھ کر کئی لاکھ انسان میرے ساتھ کر دیا۔ اور وہ چاہتا تھا کہ لوگ میری مدد نہ کریں مگر خدا تعالیٰ نے اس کی زندگی میں ہی اس کو دکھلا دیا کہ ایک جہان میری مدد کے لئے میری طرف متوجہ ہو گیا اور خدا تعالی نے وہ میری مالی مدد کی کہ صد ہا برس میں کسی کی ایسی مدد نہیں ہوئی۔ اور وہ چاہتا تھا کہ مجھ کو کوئی عزت نہ ملے مگر خدا نے ہر ایک طبقہ کے ہزار ہا انسانوں کی گردنیں میری طرف جھکا دیں اور وہ چاہتا تھا کہ میں اس کی زندگی میں ہی مر جاؤں اور میری اولا د بھی مر جائے مگر خدا تعالیٰ نے میری زندگی میں اس کو ہلاک کیا اور الہام کے دن کے بعد تین لڑکے اور مجھ کو عطا کئے ۔ پس یہ موت اس کی بڑی نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہوئی اور یہی پیشگوئی میں نے کی تھی جو خدا تعالیٰ کے فضل سے پوری ہو گئی۔ اور وہ پیشگوئی جس میں میں نے لکھا تھا کہ نامرادی اور ذلت کے ساتھ میرے رو برو وہ مرے گا وہ انجام آتھم میں عربی شعروں میں ہے اور وہ یہ ہے: وَمِنَ اللام أرى رُجيلا فاسقًا غولا لعينا نطفة السُّفَهَاء اور لیموں میں سے ایک فاسق آدمی کو دیکھتا ہوں کہ ایک شیطان ملعون ہے سفیہوں کا نطفہ شكس خبيث مُفْسِدٌ ومُزوّر نَحْسٌ يُسمّى السَّعْد في الجُهَلاء بد گو ہے اور خبیث اور مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھلانے والا منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے ل میں لکھ چکا ہوں کہ یہ چند شعر اس وقت صحت نیت سے لکھے گئے جبکہ بدقسمت سعد اللہ کی بد زبانی حد سے زیادہ گذرگئی تھی ۔ منہ