حقیقةُ الوحی — Page 421
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۲۱ حمد (نقل بعينه ) نحن مهلكوها قبل يوم القيامة او معذبوها عذاباً شديدًا كان ذالک فی الکتاب مسطورًا) نقل مطابق اصل صحیح آیت یوں ہے ۔ و ان من قرية الا جمالی نظام سے اصلاح پذیر نہ ہوں اس جلالی حربہ سے ہلاک یا متنبہ کئے جائیں جیسا کہ قدیم سے ستہ اللہ چلی آتی ہے کہ ہر ایک روحانی انقلاب کے لئے پہلے مامور آتے رہے ہیں اور جب قوم اُن کی تکفیر و تکذیب میں حد سے بڑھ جاتی تھی تو ان پر عذاب آجا تا رہا جس کی نظیر میں قرآن شریف و کتب مقدسہ میں بکثرت موجود ہیں۔ چنانچہ اسی طرح اب بھی وقوع میں آیا کہ جب حضرت اقدس نے تبلیغ اور حجتہ اللہ کو دنیا پر پورا کیا اور اپنے دعوی ماموریت کو ہر ایک پہلو سے جیسا کہ حق تھا ثابت کر دکھایا لیکن دُنیا اُن کی تکفیر و تکذیب سے باز نہ آئی تو خدا تعالیٰ نے اپنی سنت قدیم کے مطابق اس زمانہ کے لوگوں کے لئے آسمان سے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ انبیاء علیہم السلام کے مخالفوں کی طرح آپ کے مکذبین کے لئے بھی ایک بلا نازل فرمائی۔ سو وہ یہی طاعون ہے جو دنیا کو کھا جانے والی آگ کی طرح بھسم کرتی 10 جاتی ہے۔ دیکھو حدیث نبوی میں صاف لکھا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں اس کثرت سے طاعون پڑے گی کہ زمین مُردوں سے بھر جائے گی۔ اور انجیل مقدس کتاب مکاشفات باب ۱۶ میں لکھا ہے کہ نزول مسیح کے زمانہ میں خلقت بُرے اور زبوں پھوڑے کی آفت سے جس سے مراد طاعون ہے ہلاک ہوگی ۔ علاوہ اس کے قرآن کریم بڑی شدومد کے ساتھ آخری زمانہ میں قوموں کے ہلاک ہونے کی خبر دیتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: و ما من قرية الا نحن مهلكوها قبل يوم القيامة او معذبوها عذابا شديدا و كان ذالك في الكتاب مسطورا ( سورة بنی اسرائیل رکوع ۶ ) اور ایسا ہی سورہ دخان میں فرمایا: فارتقب يوم تأتى السماء بدخان مبين يغشى الناس هذا عذاب الیم۔ الخ بقیہ حاشیہ نمبر : الہامی کتاب میں لکھا ہوا دکھایا گیا کہ وہ مینار جس پر مسیح نازل ہوگا۔ چراغ دین یعنی اس عاجز کے ہاتھ سے بنایا جائے گا۔ اور ساتھ ہی اس کے یہ بھی مجھ پر ظاہر ہوا کہ گویا دنیا میں اس مینار کے بنانے کے لئے کوئی دوسرا شخص میرا ہم نام نہیں ہے اور پھر تقریباً عرصہ تین سال کے بعد رؤیا کی حالت میں تمام دنیا کی قو میں چڑیوں کی صورت پر آپس میں شور وغل کرتی ہوئیں مجھے دکھائی گئیں ۔ اور جب میں اُن کا نظارہ کر رہا تھا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام مجھ پر نازل ہوا ( اُن کو کہو اس طرف چلی آویں تا کہ ان کو آرام ملے ) پھر اس کے بعد میں نے ایک دفعہ ایک رویا صالحہ میں دیکھا کہ صلحاء لوگوں کا ایک جلسہ منعقد ہوا اور اس عاجز کو اس میں شامل کیا گیا اور لوگ مجھے مبارک باد دیتے ہیں اور پھر ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ حضرت اقدس کے مخلص خدام کا جلسہ منعقد ہو رہا ہے اور اس عاجز کو اس خدمت پر مامور کیا گیا کہ میں لوگوں کو حضرت اقدس مسیح کی بیعت کے لئے بلند آواز سے پکاروں اور جو آئے اس کو حضور پر نور کی خدمت میں حاضر کروں ۔اب ایک سال کا ذکر ہے کہ میں نے ایک رویا صالحہ میں دیکھا کہ مغرب کی طرف سے ایک روشنی آئی جس کا طولان کوسوں تک اور اونچان