حقیقةُ الوحی — Page 422
روحانی خزائن جلد ۲۲ فاذا برق البصر۔ الخ) ( نقل مطابق اصل صحیح یوں ہے ۴۲۲ حقيقة ا اور فرمایا یوم نبطش البطشة الكبرى انا منتقمون یعنی انتظاری کرو اس دن کی کہ لاوے آسمان دھو آں ڈھانک لے گا لوگوں کو ۔ یہ ہے عذاب درد دینے والا ۔ جس دن پکڑیں گے ہم پکڑنا سخت تحقیق ہم بدلہ لینے والے ہیں اور اسی طرح سورۃ قیامت میں فرمایا: واذا برق البصر و خسف القمر و جمع الشمس والقمر يقول الانسان يومئذ اين المفر كلا لا وزر الی ربک یومنذ المستقر یعنی چاند اور سورج کو جب ایک ہی مہینے یعنی رمضان میں گہن ہوگا تو اس کے بعد لوگ بھاگنے کی جگہ ڈھونڈیں گے اور نہ پاویں گے۔سوائے اس کے کتب مقدسہ میں بھی اس زمانہ کے متعلق بہت کی پیشین گوئیاں موجود ہیں۔ دیکھو یسعیاہ باب ۴ ، ۳۷ ۶۶/۱۵ اور ۵۰ زبور ۳ آیت اور دانی ایل ب ۱۲، حزقی ایل ۱۵ وحقوق ۳۔ تام ۲۴ صفنیاہ ب۳ ۔ میکا یہ ب ۴۔ متی ب ۱۳/۴۰ و ۱۵ - ۳۱- مکاشفات ب ۱۵، ۱۶۔ ان کتابوں میں اس زمانہ کا پورا اور کامل فوٹو موجود ہے۔ ہاں اگر یہ سوال ہو کہ ہم کیونکر ما نہیں کہ یہ عذاب امام الوقت کی مخالفت کے باعث ہم پر آ گیا ہے تو اس کا جواب ہم آیات ذیل سے دیتے ہیں جیسا فرمایا و ما نهلك القرى حتى نبعث فيهم رسولا یعنی ہم کسی بستی کو بھی ہلاک نہیں کرتے جب تک کہ ان کے درمیان کوئی رسول بقیہ حاشیہ نمبر : آسمان سے ملا ہوا تھا اور وہ روشنی سیدھی میری طرف آئی اور جس قدر نز دیک آتی تھی کم ہوتی جاتی تھی یہاں تک کہ جب میرے نزدیک پہنچی تو میں نے بجائے روشنی کے صرف واحد شخص کو دیکھا جس کے دونوں ہاتھوں میں نعلین کی صورت پر دواشیاء پکڑی ہوئی تھیں اور جب اُن کو ہلاتا تھا تو وہ روشنی اُن کے اندر سے نکلتی تھی چنانچہ اس شخص نے میرے قریب آ کر نہایت جذبہ کے ساتھ پکارا کہ بیماروں کو حاضر کرو ۔ اُس کے کہنے پر میں اُس کے آگے سرنگوں ہو گیا اور اُس نے اُس چیز کے ساتھ جو اُس کے ہاتھ میں تھی میرے سر کو مسح کیا اور میں دیکھتا ہوں کہ میرے گلے میں قیدیوں کی طرح لوہے کی ایک ہیکل پڑی ہے جس کو میں اپنے دونوں ہاتھوں سے کھول رہا ہوں چنانچہ اس کے چند روز بعد پھر پہلے کی طرح کشفی حالت مجھ پر طاری ہوئی اور ایک ایسا سرور میرے دل پر طاری ہوا کہ گویا میں بادشاہ ہوں چنانچہ اسی سرور اور تموج کی حالت میں ایک روز کشفی طور پر میں خدا کے حضور پہنچایا گیا اور اس وقت مسیحی تعلیم یعنی انجیل کی حقیقت مجھ پر کھولی گئی اور مسیحیوں کی غلط فہمی پر آگاہ کیا گیا اور اس کے ساتھ یہ بات بھی نقل مطابق اصل صحیح یوں ہے و ما کان ربک مهلک القراى حتى يبعث في امها رسولا)