حقیقةُ الوحی — Page 15
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۵ حقيقة الوح سے تو دیکھتا ہے مگر اُس نور کے اندر داخل نہیں ہوتا اُس شخص کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک شخص اندھیری رات میں آگ کی روشنی کو دیکھتا ہے اور اُس کی رہنمائی سے راہ راست بھی پا لیتا ہے لیکن بوجہ دور ہونے کے اپنی سردی کو اُس آگ سے دور نہیں کر سکتا اور نہ آگ اُس کے نفسانی قالب کو جلا سکتی ہے۔ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر ایک اندھیری رات میں اور سخت سردی کے وقت دور سے آگ کی روشنی نظر آجاوے تو صرف اس روشنی کا دیکھنا ہی ہلاکت سے نہیں بچا سکتا بلکہ ہلاکت سے وہ بچے گا کہ ایسا آگ کے قریب چلا جائے کہ جو کافی طور پر اُس کی سردی کو دور کر سکے لیکن جو شخص صرف دور سے اُس نور کو دیکھتا ہے اس کی یہی نشانی ہے کہ اگر چہ راہ راست کی بعض علامات اُس میں پائی جاتی ﴿۱۳﴾ ہیں لیکن خاص فضل کی کوئی علامت اُس میں پائی نہیں جاتی اور اُس کی قبض جو کمی تو کل اور نفسانی خواہشوں کی وجہ سے ہے دور نہیں ہوتی اور اُس کا نفسانی قالب جل کر خاک نہیں ہوتا کیونکہ شعلہ نور سے بہت دور ہے اور وہ رسولوں اور نبیوں کا کامل طور پر وارث نہیں ہوتا اور اُس کی بعض اندرونی آلائشیں اس کے اندر مخفی ہوتی ہیں اور اُس کا تعلق جو خدا تعالیٰ سے ہے کدورت اور خامی سے خالی نہیں ہوتا کیونکہ وہ دور سے خدا تعالیٰ کو اپنی دُھندلی نظر کے ساتھ دیکھتا ہے مگر اُس کی گود میں نہیں ہے۔ ایسے آدمی جو نفسانی جذبات اُن کے اندر ہیں بعض اوقات اُن کے نفسانی جذبات ان کی خوابوں میں اپنا جوش اور طوفان دکھاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ جوش اُن کا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ جوش محض نفس امارہ کی طرف سے ہوتا ہے مثلاً ایک شخص خواب میں کہتا ہے کہ فلاں شخص کی میں ہرگز اطاعت نہیں کروں گا میں اُس سے بہتر ہوں تو اس سے نتیجہ نکالتا ہے کہ درحقیقت وہ بہتر ہے حالانکہ نفس کے جوش سے وہ کلام ہوتا ہے اسی طرح نفس کے جوش سے خواب میں اور کئی قسم کے کلام کرتا ہے اور جہالت سے سمجھتا ہے کہ گویا وہ کلام خدا کی مرضی کے موافق ہے اور ہلاک ہو جاتا ہے ۔ اور چونکہ اُس نے خدا تعالیٰ کی طرف پوری حرکت نہیں کی اور اپنی تمام طاقت اور تمام صدق اور تمام وفاداری کے ساتھ اس کو اختیار نہیں کیا اس لئے خدا تعالی کی طرف سے بھی پورے طور پر جلی رحمت اس پر نہیں ہوتی اور وہ اُس بچہ کی طرح ہوتا ہے جس میں جان تو پڑ گئی ہے لیکن ابھی وہ مشیمہ سے باہر نہیں آسکا اور عالم روحانی کے کامل نظارہ سے ہنوز اُس کی آنکھ بند ہے اور ہنوز اس نے اپنی ماں کے چہرہ کو بھی نہیں دیکھا جس کے رحم میں اُس نے پرورش پائی۔ اور بقول مشہور کہ نیم مثلا