حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 14

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۴ حقيقة الوح اس بات کے کہ اُن میں رویا اور کشف کے حصول کیلئے ایک فطرتی استعداد ہوتی ہے اور دماغی بناوٹ اس قسم کی واقع ہوتی ہے کہ خواب و کشف کا کسی قدر نمونہ اُن پر ظاہر ہو جاتا ہے وہ اپنی اصلاح نفس کے لئے بھی کسی قدر کوشش کرتے ہیں اور ایک سطحی نیکی اور راستبازی اُن میں پیدا ہو جاتی ہے جس کی آمد سے ایک محدود دائرہ تک رویا صادقہ اور کشوف صحیحہ کے انوار اُن میں پیدا ہو جاتے ہیں مگر تاریکی سے خالی نہیں ہوتے بلکہ ان کی بعض دعائیں بھی منظور ہو جاتی ہیں مگر عظیم الشان کاموں میں نہیں کیونکہ اُن کی راستبازی کامل نہیں ہوتی بلکہ اُس شفاف پانی کی طرح ہوتی ہے جو اوپر سے تو شفاف نظر آتا ہومگر نیچے اُس کے گو بر اور گند ہو اور چونکہ ان ۱۲ کا تزکیہ نفس پورا نہیں ہوتا اور ان کے صدق وصفا میں بہت کچھ نقصان ہوتا ہے اس لئے کسی ابتلا کے وقت وہ ٹھو کر کھا جاتے ہیں اور اگر خدا تعالیٰ کا رحم ان کے شامل حال ہو جائے اور اُس کی ستاری اُن کا پردہ محفوظ رکھے تب تو بغیر کسی ٹھوکر کے دنیا سے گذر جاتے ہیں اور اگر کوئی ابتلا پیش آجاوے تو اندیشہ ہوتا ہے کہ بلعم کی طرح انکا انجام بد نہ ہو اور مہم بننے کے بعد کتنے سے تشبیہ نہ دیئے جائیں کیونکہ ان کی علمی اور عملی اور ایمانی حالت کے نقصان کی وجہ سے شیطان اُن کے دروازے پر کھڑا رہتا ہے اور کسی ٹھو کر کھانے کے وقت فی الفور ان کے گھر میں داخل ہو جاتا ہے۔ وہ دور سے روشنی کو دیکھ لیتے ہیں مگر اس روشنی کے اندر داخل نہیں ہوتے اور نہ اس کی گرمی سے کافی حصہ ان کو ملتا ہے اس لئے ان کی حالت ایک خطرہ کی حالت ہوتی ہے۔ خدا نور ہے جیسا کہ اُس نے فرمایا اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ے پس وہ شخص جو صرف اس نور کے لوازم کو دیکھتا ہے وہ اُس شخص کی مانند ہے جو دور سے ایک دھواں دیکھتا ہے مگر آگ کی روشنی نہیں دیکھتا اس لئے وہ روشنی کے فوائد سے محروم ہے اور نیز اس کی گرمی سے بھی جو بشریت کی آلودگی کو جلاتی ہے۔ پس وہ لوگ جو صرف منقولی یا معقولی دلائل یا ظنی الہامات سے خدا تعالیٰ کے وجود پر دلیل پکڑتے ہیں جیسے علماء ظاہری یا جیسے فلسفی لوگ اور یا ایسے لوگ جو صرف اپنے روحانی قومی سے جو استعداد کشوف اور رؤیا ہے خدا تعالیٰ کی ہستی کو مانتے ہیں مگر خدا کے قرب کی روشنی سے بے نصیب ہیں وہ اُس انسان کی مانند ہیں جو دور سے آگ کا دھواں دیکھتا ہے مگر آگ کی روشنی کونہیں دیکھتا اورصرف دھوئیں پر غور کرنے سے آگ کے وجود پر یقین کر لیتا ہے ایسا شخص اس بصیرت سے محروم ہوتا ہے جو بذریعہ روشنی حاصل ہوتی ہے لیکن وہ شخص جو اس نور کی روشنی کو دور النور : ٣٦