حقیقةُ الوحی — Page 378
روحانی خزائن جلد ۲۲ ظاہر ہے اور قطع نسل کی علامات موجود ۳۷۸ حقيقة ا ۱۶۸۔ نشان۔ میرے پر خدا تعالیٰ نے ظاہر کیا تھا کہ سخت بارشیں ہوں گی اور گھروں میں ندیاں چلیں گی اور بعد اس کے سخت زلزلے آئیں گے چنانچہ ان بارشوں سے پہلے وہ وحی الہی اخبار بدر اور الحکم میں شائع کر دی گئی تھی چنانچہ ویسا ہی ظہور میں آیا اور کثرت بارشوں سے کئی گاؤں ویران ہو گئے اور وہ پیشگوئی پوری ہو گئی مگر دوسرا حصہ اُس کا یعنی سخت زلزلے ابھی اُن کی انتظار ہے سو منتظر رہنا چاہیے۔ ۱۶۹۔ نشان ۔ جب ہم بہار کی موسم میں ۱۹۰۵ء میں باغ میں تھے تو مجھے اپنی جماعت کے لوگوں میں سے جو باغ میں تھے کسی ایک کی نسبت یہ الہام ہوا تھا کہ خدا کا ارادہ ہی نہ تھا کہ اُس کو اچھا کرے مگر فضل سے اپنے ارادہ کو بدل دیا۔ اس الہام کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ سید مهدی حسین صاحب جو ہمارے باغ میں تھے اور ہماری جماعت میں داخل ہیں اُن کی ۳۶۵ بیوی سخت بیمار ہو گئی۔ وہ پہلے بھی تپ اور ورم سے جو منہ اور دونوں پیروں اور تمام بدن پر تھی بیمار تھی اور بہت کمزور تھی اور حاملہ تھی پھر بعد وضع حمل جو باغ میں ہوا اس کی حالت بہت نازک ہوگئی اور آثار نومیدی ظاہر ہو گئے اور میں اُس کے لئے دعا کرتا رہا آخر خدا تعالیٰ کے فضل سے اُس کو دوبارہ زندگی حاصل ہوئی۔ اس امر کے گواہ اخویم حکیم مولوی نور دین صاحب اگر سعد اللہ کا پہلالڑ کا نا مرد نہیں ہے جو الہام ان شانئک ھو الابتر سے پہلے پیدا ہو چکا تھا جس کی عمر تخمینا میں برس کی ہے تو کیا وجہ کہ باوجود اس قدر عمر گذر نے اور استطاعت کے اب تک اُس کی شادی نہیں ہوئی اور نہ اُس کی شادی کا کچھ فکر ہے اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ سعد اللہ پر فرض ہے کہ اس پیشگوئی کی تکذیب کے لئے یا تو اپنے گھر اولاد پیدا کر کے دکھلاوے اور یا پہلے لڑکے کی شادی کر کے اور اولا د حاصل کرا کر اُس کی مردی ثابت کرے اور یا در کھے کہ ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات اس کو ہرگز حاصل نہیں ہوگی کیونکہ خدا کے کلام نے اس کا نام ابتر رکھا ہے اور ممکن نہیں کہ خدا کا کلام باطل ہو ۔ یقینا وہ ابتر ہی مرے گا جیسا کہ آثار نے ظاہر بھی کر دیا ہے ۔ منہ