حقیقةُ الوحی — Page 377
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۷۷ حقيقة الـ عالم کشف میں مجھے دکھائی دیا کہ ایک بلا سیاہ رنگ چار پائے کی شکل پر جو بھیٹر کے قد کی مانند اُس کا قد تھا اور بڑے بڑے بال تھے اور بڑے بڑے پنجے تھے میرے پر حملہ کرنے لگی اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی صرع ہے تب میں نے اپنا داہنا ہاتھ زور سے اُس کے سینہ پر مارا اور کہا کہ دور ہو تیرا مجھ میں حصہ نہیں ۔ تب خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ بعد اس کے وہ خطرناک عوارض جاتے رہے اور وہ در دشدید بالکل جاتی رہی صرف دوران سر کبھی کبھی ہوتا ہے۔ تا دو زرد رنگ چادروں کی پیشگوئی میں خلل نہ آوے۔ دوسری مرض ذیا بیطس تخمیناً میں برس سے ہے جو مجھے لاحق ہے جیسا کہ اس نشان کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے اور ابھی تک میں دفعہ کے قریب ہر روز پیشاب آتا ہے اور امتحان سے بول میں شکر (۳۶۳) پائی گئی۔ ایک دن مجھے خیال آیا کہ ڈاکٹروں کے تجربہ کے رو سے انجام ذیا بیطس کا یا تو نزول الماء ہوتا ہے اور یا کار بنکل یعنی سرطان کا پھوڑا نکلتا ہے جو مہلک ہوتا ہے سو اسی وقت نزول الماء کی نسبت مجھے الہام ہوا نزلت الرحمة على ثلث العين وعلى الاخر بین ۔ یعنی تین عضو پر رحمت نازل کی گئی آنکھ اور دو اور عضو پر اور پھر جب کا ربنکل کا خیال میرے دل میں آیا تو الہام ہوا السّلام علیکم سو ایک عمر گذری کہ میں ان بلاؤں سے محفوظ ہوں۔ فالحمد للہ ۔ ۱۶ ۱۶۷۔ نشان ۔ تخمیناً تیرہ برس ہوئے کہ جب مجھے سعد اللہ نومسلم لدہانوی کی نسبت الہام ہوا تھا۔ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ۔ دیکھو انوار الاسلام در اشتہا ر انعامی دو ہزار روپیه ܬܙ صفحہ ۱۲ اُس وقت ایک بیٹا سعد اللہ کا بعمر سولہ یا پندرہ برس کا موجود تھا بعد اس وحی کے باوجود گذر نے تیرہ برس کے ایک بچہ بھی اُس کے گھر میں نہیں ہوا اور پہلالڑ کا اُس کا بموجب الہام موصوف کے اس قابل نہیں کہ اس سے نسل جاری ہو سکے پس ابتر کی پیشگوئی کا ثبوت