حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 365

روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الـ مولوی عبدالحق عزنوی کے مقابل پر لکھی گئی تھی جس کی عبارت یہ ہے کہ عبد الحق کے مباہلہ کے (۳۵۲ بعد ہر ایک قسم سے خدا تعالیٰ نے مجھے ترقی دی۔ ہماری جماعت کو ہزار ہا تک پہنچا دیا۔ ہماری علمیت کا لاکھوں کو قائل کر دیا اور الہام کے مطابق مباہلہ کے بعد ایک اور لڑکا ہمیں عطا کیا جس کے پیدا ہونے سے تین لڑکے ہو گئے اور پھر ایک چو تھے لڑکے کے لئے مجھے متواتر الہام کیا اور ہم عبد الحق کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ نہیں مرے گا جب تک اس الہام کو پورا ہوتا نہ سن لے۔ اب اس کو چاہیے کہ اگر وہ کچھ چیز ہے تو دعا سے اس پیشگوئی کو ٹال دے دیکھو میری کتاب انجام آتھم صفحہ ۵۸ ۔ یہ پیشگوئی ہے جو چو تھے لڑکے کے بارے میں کی گئی تھی پھر اس پیشگوئی سے اڑھائی برس بعد چوتھا لڑ کا عبدالحق کی زندگی میں ہی پیدا ہو گیا جس کا نام مبارک احمد رکھا گیا جواب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ موجود ہے۔ اگر مولوی عبدالحق نے اس لڑکے کا پیدا ہونا اب تک نہیں سنا تو اب ہم سنائے دیتے ہیں یہ کس قدر عظیم الشان نشان ہے کہ دونوں پہلوؤں سے سچا نکلا۔ عبد الحق بھی لڑکے کے تولد تک زندہ رہا اور لڑ کا بھی پیدا ہو گیا اور پھر یہ کہ اس بارے میں عبد الحق کی کوئی بددعا منظور نہ ہوئی اور وہ اپنی بددعا سے میرے اس موعودلر کے کا پیدا ہونا روک نہ سکا بلکہ بجائے ایک لڑکے کے تین لڑکے پیدا ہوئے اور دوسری طرف عبد الحق کا یہ حال ہوا کہ مباہلہ کے بعد عبد الحق کے گھر میں آج تک با وجود بارہ برس گذرنے کے ایک بچہ بھی پیدا نہ ہوا اور ظاہر ہے کہ مباہلہ کے بعد قطع نسل ہو جانا اور با وجود بارگاہ برس گذرنے کے ایک بچہ بھی پیدا نہ ہونا اور بالکل ابتر رہنا یہ بھی قہر الہی ہے اور موت کے برابر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الابتر یا در ہے کہ اسی بدگوئی کے ساتھ ہی عبد الحق کے گھر میں کوئی لڑکا پیدا نہ ہوا بلکہ لاولد اور ابتر اور اس برکت سے بالکل بے نصیب رہا اور بھائی مر گیا اور مباہلہ کے بعد بجائے لڑکا پیدا ہونے کے عزیز بھائی بھی دارالفنا میں پہنچ گیا ہے میں نے اپنی کتاب انوار الاسلام میں بطور پیشگوئی یہ بھی عبدالحق پر ظاہر کیا تھا کہ وہ اولاد سے بے نصیب رہے گا اس کو چاہیے کہ ہر ایک قسم کی کوشش اور ہمت کر کے ہماری اس پیشگوئی کو رد کر دے اور مباہلہ کے اثر کو ٹال دے چنانچہ وہ اب تک ابتر ہے اور اس تاریخ تک کہ ۲۸ ستمبر ۱۹۰۶ء ہے باوجود تیرہ برس گزرنے کے روز مباہلہ سے اب تک اولاد سے محروم ہے۔ منہ