حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 13

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۳ حقيقة الوح بہت سی تاریکی کے اندر ہوتے ہیں اور ایک شاذ و نادر کے طور پر سچائی کی چمک اُن میں ہوتی ہے اور خدا کی محبت اور قبولیت کا کوئی ان کے ساتھ نشان نہیں ہوتا اور اگر غیب کی بات ہو تو صرف ایسی ہوتی ہے جس میں کروڑ ہا انسان شریک ہوتے ہیں ۔ اور ہر ایک شخص اگر چاہے تو بطور خود تحقیقات کر سکتا ہے کہ ایسی خوابوں اور الہامات میں ہر ایک فاسق وفاجر اور کافر اور ملحد یہاں تک کہ زانیہ عورتیں بھی شریک ہوتی ہیں ۔ پس وہ شخص عقلمند نہیں ہے کہ جو اس قسم کی خوابوں اور الہاموں پر خوش اور فریفتہ ہو جائے اور سخت دھوکہ میں پڑا ہواوہ شخص ہے کہ جو فقط اس درجہ کی خوابوں اور الہاموں کا نمونہ اپنے اندر پا کر اپنے تئیں کچھ چیز سمجھ بیٹھے بلکہ یا د رکھنا چاہیے کہ اس درجہ کا انسان فقط اُس انسان کی طرح ہے کہ جو ایک اندھیری رات میں دور سے ایک آگ کا دھواں دیکھتا ہے مگر اس آگ کی روشنی کو نہیں دیکھ سکتا اور نہ اس کی 11 گرمی سے اپنی سردی اور افسردگی دور کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی خاص برکتوں اور نعمتوں سے ایسے لوگوں کو کوئی حصہ نہیں اتا اور نہ کوئی قبولیت ان میں پیدا ہوتی ہے اور نہ کوئی ایک ذرہ خدا سے تعلق ہوتا ہے اور نہ شعلہ نور سے بشریت کی آلائشیں جلتی ہیں اور چونکہ خدا تعالیٰ سے ان کو سچی دوستی پیدا نہیں ہوتی اس لئے بباعث نہ ہونے قربت رحمانی کے شیطان ان کے ساتھ رہتا ہے اور حدیث النفس اُن پر غالب رہتی ہے اور جس طرح ہجوم بادل کی حالت میں اکثر آفتاب چھپا رہتا ہے اور کبھی کبھی کوئی کنارہ اُس کا نظر آ جاتا ہے اسی طرح ان کی حالت اکثر تاریکی میں رہتی ہے اور ان کی خوابوں اور الہاموں میں شیطانی دخل بہت ہوتا ہے۔ باب دوم اُن لوگوں کے بیان میں جن کو بعض اوقات بچی خوا میں آتی ہیں ۔ یا بچے الہام ہوتے ہیں اور ان کو خدا تعالیٰ سے کچھ تعلق بھی ہے لیکن کچھ بڑا تعلق نہیں اور نفسانی قالب اُن کا شعلہ نور سے جل کر نیست و نابود نہیں ہوتا اگر چہ کسی قدر اس کے نزدیک آجاتا ہے۔ دنیا میں بعض ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں کہ وہ کسی حد تک زہد اور عفت کو اختیار کرتے ہیں اور علاوہ