حقیقةُ الوحی — Page 358
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۵۸ حقيقة الوح ۳۴۵ تجھے قرآن سکھلایا ہے یعنی اس زمانہ کے لوگوں میں سے کسی کا تیرے پر بار منت نہیں ۔ خدا تیرا معلم ہے اور خدا نے تجھے اس لئے قرآن سکھلایا کہ تا تو اُن لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے اور تا خدا کی حجت پوری ہو جاوے اور مجرموں کی راہ کھل جائے ان کو کہہ دے کہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور سب سے پہلے اس بات پر ایمان لانے والا میں ہوں۔ اور چونکہ پہلے اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت تعلیم قرآن تیس برس تک ختم ہوئی اس لئے ضروری تھا کہ اب بھی اُس مشابہت کو دکھلانے کے لئے تیئیس برس ہی تعلیم قرآن کی مدت مقرر کی جاتی تا وہ سب نشان ظاہر ہو جائیں جن کا وعدہ دیا گیا تھا۔ رومی صاحب نے بھی اسی بارہ میں فرمایا ہے۔ مدتے ایس مثنوی تاخیر شد سالها بایست تا خون شیر شد ۱۵۶ نشان ۔ یہ نشان پہلے اس سے میں نے اپنے رسالہ تذکرۃ الشہادتین کے اخیر میں لکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ اکتوبر ۱۹۰۳ء کو میں نے ارادہ کیا تھا کہ صاحبزادہ عبداللطیف اور شیخ عبدالرحمن صاحب کی شہادت کے بارہ میں جو نہایت ظلم سے قتل کئے گئے ایک رسالہ لکھوں جس کا نام تذکرۃ الشہادتین تجویز کیا تھا لیکن اتفاقاً مجھے درد گردہ شروع ہو گیا اور میرا ارادہ تھا کہ ۱۶ راکتو بر ۱۹۰۳ء تک وہ رسالہ ختم کر لوں کیونکہ ۱۶ اکتوبر ۱۹۰۳ء کو ایک فوجداری مقدمہ کے لئے جو ایک مخالف کی طرف سے میرے پر دائر تھا گورداسپور میں جانا ضروری تھا تب میں نے جناب الہی میں دعا کی کہ یا الہی میں شہید مرحوم عبد اللطیف کے لئے رسالہ لکھنا چاہتا ہوں اور درد گردہ شروع ہو گئی ہے مجھے شفا بخش اور اس سے پہلے مجھے ایک دفعہ دس دن برابر درد گردہ رہی تھی اور میں اس سے قریب موت ہو گیا تھا۔ اب کی دفعہ بھی وہی خوف دامن گیر ہو گیا میں نے اپنے گھر کے لوگوں کو کہا کہ میں دعا کرتا ہوں تم آمین کہو تب میں نے اپنی شفا کے لئے اس سخت درد کی حالت میں دعا کی اور انہوں نے آمین کہی پس میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی قسم ہر ایک گواہی سے زیادہ اعتبار