حقیقةُ الوحی — Page 354
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۵۴ حقيقة الوح ۳۴۱ مہدی پر دعا کروں تا اس کی موت سے میری کرامت بھی ثابت ہو مگر اس کو شیخ سعدی کا یہ شعر یاد نہ رہا ہر بیشه گمان مبر که خالی است شاید که پلنگ خفته باشد اگر میں جھوٹا ہوتا تو بے شک ایسی دعا سے کہ جو نہایت توجہ اور در دول سے کی گئی تھی ضرور ہلاک ہو جاتا اور میاں غلام دستگیر محمد طاہر ثانی سمجھا جاتا لیکن چونکہ میں صادق تھا اِس لئے غلام دستگیر خدا تعالیٰ کی وحیانی مهین من اراد اهانتک کا شکار ہو گیا اور وہ دائگی ذلت جو میرے لئے اُس نے چاہی تھی اسی پر پڑ گئی۔ اگر کوئی مولوی خدا سے ڈرنے والا ہو تو اس ایک ہی مقام سے اُس کا پردہ غفلت کا دور ہوسکتا ہے ہر ایک طالب حق پر لازم ہے کہ اس بات کو سوچے کہ یہ کیا بھید ہے کہ محمد طاہر کی دعا سے تو جھوٹا مسیح اور جھوٹا مہدی ہلاک ہو گیا اور جب میاں غلام دستگیر نے اس کی ریس کر کے بلکہ مشابہت ظاہر کرنے کے لئے اپنی کتاب فتح رحمانی میں اس کا ذکر بھی کر کے میرے پر بددعا کی اور بددعا کرنے کے وقت اپنی اسی کتاب میں میری نسبت یہ لفظ لکھا تَبالَهُ وَلَا تُبَاعِہ جس کے یہ معنی ہیں کہ میں اور میرے پیرو سب ہلاک ہو جا ئیں تب وہ چند ہفتہ کے اندر آپ ہی ہلاک ہو گیا اور جس ذلت کو میری موت مانگ کر میرے لئے چاہتا تھا وہ داغ ذلت ہمیشہ کے لئے اُسی کو نصیب ہو گیا۔ کوئی صاحب مجھے جواب دیں کہ کیا یہ اتفاقی امر ہے یا خدا تعالیٰ کے ارادہ سے ظہور میں آیا۔ میں اب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہوں مگر غلام دستگیر کے مرنے پر گیارہ برس سے زیادہ گذر گئے اب آپ لوگوں کا کیا خیال ہے۔ کیا خدا تعالیٰ کو محمد طاہر کے زمانہ کا جھوٹا مسیح اور جھوٹا مہدی بُر امعلوم ہوتا تھا اور اُس سے خدا دشمنی رکھتا تھا مگر غلام دستگیر کے زمانہ میں جو جھوٹا مسیح پیدا ہوا اُس کو خدا تعالیٰ نے محبت کی نظر سے دیکھا اور اُس کو عزت دی کہ غلام دستگیر کو اُس کے سامنے ہلاک کر دیا اور غلام دستگیر کی بددعا کو اُسی کے منہ پر مار کر اُسی کوموت کا پیالہ پلا دیا اور قیامت تک یہ داغ ذلت اس پر رکھا۔ اگر میں غلام دستگیر کی بد دعا سے مرجا تا اور غلام دستگیر اب تک