حقیقةُ الوحی — Page 348
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۴۸ حقيقة الوح لیکھرام بدقسمت نے اپنی جھوٹی خوشیوں پر بھروسہ کر کے میری نسبت شائع کیا تھا کہ وہ تین سال کے اندر مع اپنے تمام فرزندوں کے مرجائے گا۔ آخر نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود ہی میری پیشگوئی کے مطابق لاولد مرگیا اور کوئی نسل اُس کی دنیا میں نہ رہی۔ ایسا ہی عبدالحق غزنوی اُٹھا اور اس نے مباہلہ کر کے اپنی بد دعاؤں سے میرا استیصال چاہا سو جس قدر ہر ایک پہلو سے مجھے ترقی ہوئی اُس کے مباہلہ کے بعد ہوئی۔ کئی لاکھ انسان تابع ہو گئے کئی لاکھ روپیہ آیا قریباً تمام دنیا ۳۳۵ میں عزت کے ساتھ میری شہرت ہوگئی یہاں تک کہ غیر ملکوں کے لوگ میری جماعت میں داخل ہوئے اور کئی لڑکے بعد میں پیدا ہوئے مگر عبد الحق منقطع النسل رہا جو مر نے کے حکم میں ہے۔ اور ایک ذرہ کے برابر خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس کو برکت نہ ملی اور نہ بعد میں اُس نے کوئی عزت پائی اور ان شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ کا پورا مصداق ہو گیا پھر مولوی غلام دستگیر قصوری اُٹھا اور اُس کو شوق ہوا کہ محمد طاہر کی طرح میرے پر بددعا کر کے قوم میں نام حاصل کرے یعنی جس طرح محمد طاہر نے ایک جھوٹے مسیح اور جھوٹے مہدی پر بددعا کی تھی اور وہ ہلاک ہو گیا تھا اسی طرح اپنی بددعا سے مجھے ہلاک کرے مگر اس بددعا کے بعد وہ آپ ہی ایسے جلدی ہلاک ہوا جس کی نظیر نہیں پائی جاتی ۔ کوئی مولوی جواب نہیں دیتا کہ یہ کیا راز ہے کہ محمد طاہر نے تو اپنے زمانہ کے جھوٹے مسیح پر بد دعا کر کے اس کو ہلاک کر دیا اور غلام دستگیر اپنے زمانہ کے مسیح پر بددعا کر کے آپ ہی ہلاک ہو گیا ۔ یہ تو اندرونی نصرت الہی ہے بیرونی طور پر خدا تعالیٰ نے وہ رعب مجھے بخشا ہے کہ کوئی پادری میرے مقابل نہیں آسکتا۔ یا تو وہ زمانہ تھا کہ وہ لوگ بازاروں میں چلا چلا کر کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور قرآن شریف میں کوئی پیشگوئی نہیں اور یا خدا تعالیٰ نے ایسا اُن پر رعب ڈالا کہ اس طرف عبد الحق غزنوی کو مباہلہ کے بعد میں نے اپنے رسالہ انوار الاسلام میں بار بار مخاطب کر کے لکھا ہے کہ اگر تم اپنی دعا سے مباہلہ کے اثر سے بیچ سکتے ہو تو کوشش کرو کہ تمہارے گھر میں کوئی لڑکا پیدا ہو جائے تا تم ابتر نہ رہو جو مباہلہ کا ایک اثر سمجھا جائے گا۔ پس اس قدر تا کید پر ضرور اُس نے مباہلہ کے بعد دعائیں کی ہوں گی آخرا بتر رہا پس اس سے زیادہ اور کیا نشان ہوگا ۔ منہ