حقیقةُ الوحی — Page 341
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۴۱ حقيقة الـ طرف چوکھٹ کے ساتھ لگ کر کھڑا ہے جس میں میں رہتا ہوں تب کسی شخص نے مجھ کو کہا کہ ۳۲۸ عبد الحکیم خان کو والدہ اسحاق نے گھر کے اندر بلایا ہے ( والدہ اسحاق میر ناصر نواب صاحب کی بیوی ہیں اور اسحاق اُن کا لڑکا ہے ) اور وہ سب ہمارے گھر میں ہی رہتے ہیں تب میں نے یہ بات سن کر جواب دیا کہ میں عبد الحکیم خان کو ہرگز اپنے گھر میں آنے نہ دوں گا۔ اس میں ہماری بے عزتی ہے۔ تب وہ آنکھوں کے سامنے سے گم ہو گیا اندر داخل نہیں ہوا۔ یادر ہے کہ علم تعبیر میں معبرین نے یہ لکھا ہے جس کا بار ہا تجربہ ہو چکا ہے کہ اگر کسی کے گھر میں دشمن داخل ہو جائے تو اُس گھر میں کوئی مصیبت یا موت آتی ہے اور چونکہ آجکل عبد الحکیم سخت دشمن جانی اور ہمارے زوال کا دن رات منتظر ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے اُسی کو خواب میں دکھلایا کہ گویا وہ ہمارے گھر میں داخل ہونا چاہتا ہے اور والدہ اسحاق یعنی میر ناصر صاحب کی بیوی اُس کو بلاتی ہیں اور بلانے کی تعبیر دیکھی ہے کہ ایسا شخص محض اپنی بعض دینی غفلتوں کی وجہ سے جن کا علم خدا تعالیٰ کو ہے مصیبت کو اپنے گھر میں بلاتا ہے یعنی اس کی موجودہ حالت اس بات کو چاہتی ہے کہ کوئی بلا نازل ہو۔ یہ ظاہر ہے کہ انسان معاصی اور گنا ہوں سے خالی نہیں ہے اور انسانی فطرت بجز خاص لوگوں کی لغزش سے محفوظ نہیں رہ سکتی اور وہ لغزش چاہتی ہے کہ کوئی تنبیہ نازل ہو اس میں تمام دنیا شریک ہے پس اس خواب کے یہی معنی تھے کہ اُن کی کسی لغزش نے دشمن کو گھر میں بلانا چاہا مگر شفاعت نے روک لیا۔ میں نے خواب میں عبد الحکیم خان کو گھر کے اندر داخل ہونے سے روک دیا یعنی وہ فضل خدا تعالیٰ کا جو میرے شامل حال ہے اُس نے دشمن کو شماتت کے موقعہ سے باز رکھا۔ غرض جب اس قدر مجھے الہام ہوئے جن سے یقیناً میرے پر کھل گیا کہ میر صاحب کے عیال پر کوئی مصیبت در پیش ہے تو میں دعا میں لگ گیا اور وہ اتفا قامع اپنے بیٹے اسحاق اور اپنے گھر کے لوگوں کے لاہور جانے کو تھے۔ میں نے اُن کو یہ خوابیں سنادیں اور لاہور جانے سے روک دیا اور انہوں نے کہا کہ میں آپ کی اجازت کے بغیر ہر گز نہیں جاؤں گا جب دوسرے دن کی صبح