حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 340

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۴۰ حقيقة الوح ۳۲۷ الحيوة الدُّنيا ۔ یعنی اے لوگو ! تم اُس خدا کی پرستش کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے یعنی اُسی کو اپنے کاموں کا کارساز سمجھو اور اس پر تو کل رکھو۔ کیا تم دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو۔ اس میں یہ اشارہ تھا کہ کسی کے وجود کو ایسا ضروری سمجھنا کہ اس کے مرنے سے نہایت درجہ کا حرج ہوگا ایک شرک ہے اور اس کی زندگی پر نہایت درجہ زور لگا دینا ایک قسم کی پرستش ہے اس کے بعد میں خاموش ہو گیا اور سمجھ لیا کہ اس کی موت قطعی ہے چنانچہ وہ گیارہ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو بروز چارشنبہ بوقت عصر اس فانی دنیا سے گذر گئے۔ وہ درد جو اُن کے لئے دعا کرنے میں میرے دل پر وارد ہوا تھا خدا نے اس کو فراموش نہ کیا اور چاہا کہ اس ناکامی کا ایک اور کامیابی کے ساتھ تدارک کرے اس لئے اس نشان کے لئے سیٹھ عبدالرحمن کو منتخب کر لیا اگر چہ خدا نے عبدالکریم کو ہم سے لے لیا تو عبد الرحمن کو دوبارہ ہمیں دے دیا۔ وہی مرض اُن کے دامنگیر ہو گئی آخر وہ اسی بندہ کی دعاؤں سے شفایاب ہو گئے فالحمد للہ علی ذالک ۔ میرا صد ہا مرتبہ کا تجربہ ہے کہ خدا ایسا کریم و رحیم ہے کہ جب اپنی مصلحت سے ایک دعا کو منظور نہیں کرتا تو اس کے عوض میں کوئی اور دعا منظور کر لیتا ہے جو اُس کے مثل ہوتی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْنُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۱۴۳۔ نشان۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ نے ایک اور خوشی کا نشان مجھے عطا فر مایا اور وہ یہ ہے کہ میں نے ان دنوں میں ایک دفعہ دعا کی تھی کہ کوئی تازہ نشان خدا تعالیٰ مجھے دکھاوے تب جیسا کہ ۳۰ راگست ۱۹۰۶ء کے اخبار بدر میں شائع ہو چکا ہے یہ الہام مجھے ہوا آج کل کوئی نشان ظاہر ہوگا یعنی عنقریب کوئی نشان ظاہر ہونے والا ہے۔ چنانچہ وہ نشان اس طرح پر ظہور میں آیا کہ میں نے کئی دفعہ ایسی منذر خواہیں دیکھیں جن میں صریح طور پر یہ بتلایا گیا تھا کہ میر ناصر نواب جو میرے خسر ہیں اُن کے عیال کے متعلق کوئی مصیبت آنے والی ہے چنانچہ ایک دفعہ میں نے گھر میں بکرے کی ایک ران لٹکائی ہوئی دیکھی جو کسی کی موت پر دلالت کرتی تھی اور ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر عبد الحکیم خان اسسٹنٹ سرجن اس چوبارہ کے پاس باہر کی البقرة : ١٠٧