حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 339 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 339

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۳۹ حقيقة الـ غم اور فکر نے استیلا کیا اور غم انتہا تک پہنچ گیا اور یہ غم اس لئے ہوا کہ میں نے سیٹھ عبدالرحمن کو ۳۲۶ بہت ہی مخلص پایا تھا اور انہوں نے عملی طور پر اپنے اخلاص کا اول درجہ پر ثبوت دیا تھا اور محض دلی خلوص سے ہمارے لنگر خانہ کے لئے کئی ہزار روپیہ سے مدد کرتے رہے تھے جس میں بجز خوشنودی خدا کے اور کوئی مطلب نہ تھا اور وہ ہمیشہ صدق اور اخلاص کے نقاضا سے ماہواری ایک رقم کثیر ہمارے لنگر خانہ کے لئے بھیجا کرتے تھے اور اس قدر محبت سے بھرا ہوا اعتقاد رکھتے تھے کہ گویا محبت اور اخلاص میں محو تھے اور اُن کا حق تھا کہ اُن کے لئے بہت دعا کی جائے آخر دل نے اُن کے لئے نہایت درجہ جوش مارا جو خارق عادت تھا اور کیا رات اور کیا دن میں نہایت توجہ سے دعا میں لگا رہا تب خدا تعالیٰ نے بھی خارق عادت نتیجہ دکھلایا اور ایسی مہلک مرض سے سیٹھ عبدالرحمن صاحب کو نجات بخشی گویا اُن کو نئے سرے سے زندہ کیا چنانچہ وہ اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کی دُعا سے ایک بڑا معجزہ دکھلایا ورنہ زندگی کی کچھ بھی اُمید نہ تھی اپریشن کے بعد زخم کا مندمل ہونا شروع ہو گیا اور اس کے قریب ایک نیا پھوڑا نکل آیا تھا جس نے پھر خوف اور تہلکہ میں ڈال دیا تھا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کار بنکل نہیں آخر چند ماہ کے بعد بکلی شفا ہوگئی۔ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہی مردہ کا زندہ ہونا ہے۔ کار بنکل اور پھر اس کے ساتھ ذیا بیطس اور عمر پیرانہ سالی اس خوفناک صورت کو ڈاکٹر لوگ خوب جانتے ہیں کہ کس قدر اس کا اچھا ہونا غیر ممکن ہے ہمارا خدا بڑا کریم و رحیم ہے اور اس کی صفات میں سے ایک حیا کی صفت بھی ہے سال گذشتہ میں یعنی اار اکتو بر ۱۹۰۵ء کو ہمارے ایک مخلص دوست یعنی مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اسی بیماری کار بنکل یعنی سرطان سے فوت ہو گئے تھے اُن کے لئے بھی میں نے بہت دعا کی تھی مگر ایک بھی الہام اُن کے لئے تسلی بخش نہ تھا بلکہ بار بار یہ الہام ہوتے رہے کہ کفن میں لپیٹا گیا۔ ۴۷ برس کی عمر انا للہ و انا اليه راجعون۔ ان المنايا لا تطيش سهامها يعنى موتوں کے تیر خطا نہیں جاتے۔ جب اس پر بھی دعا کی گئی تب الہام ہو ایسا ایھا الناس اعبدوا ربكم الذي خلقكم۔ تؤثرون حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” احیاء “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)