حقیقةُ الوحی — Page 335
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۳۵ حقيقة الوح کہ میری جان ایک بلا میں گرفتار ہے اور حد سے زیادہ اصرار کیا اور کہا کہ میرے لئے ترقی (۳۲۲) عہدہ کی راہ بند ہے بلکہ ایسا نہ ہو کہ کسی ظالم کے ہاتھ سے فوق الطاقت مجھے ضرر پہنچ جائے تب میں نے اُن کو کہا کہ کچھ دن صبر کرو میں تمہارے لئے دعا کروں گا اور اگر پھر بھی مشکلات پیش آئیں تو پھر اختیار ہے۔ بعد اس کے میں نے جناب الہی میں اُن کے لئے دعا کی اور حضرت عزت سے اُن کی کامیابی چاہی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بجائے اس کے کہ پہلی ملازمت بھی خطرہ میں تھی غیر مترقب طور پر ترقی ہوگئی چنانچہ ہم ذیل میں سید ناصر شاہ صاحب کا خط درج کرتے ہیں جس سے معلوم ہوگا کہ دعا نے اُن کی حالت پر کیا اثر کیا اور وہ یہ ہے: بحضور اقدس حضرت پیر و مرشد دام ظلکم خاکسار نابکا رسید ناصر شاہ بعد از سلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ عرض رساں ہے کہ حضور والا کی دعا نے یہ اثر دکھایا کہ حضور کی دعا کی برکت سے ترقی عہدہ اور ترقی تنخواہ ہوگئی ۔ حضور والا کے وہ الفاظ خاکسار کو بخوبی یاد ہیں کہ جب خاکسار نے آزردہ خاطر ہو کر عرض کیا تھا کہ اب ملا زمت چھوڑ دوں گا لیکن حضور نے بڑے لطف اور رحم سے فرمایا تھا کہ گھبرانا نہیں چاہیے ہم دعا کریں گے خدا قادر ہے کہ اُنہیں دشمنوں کو تمہارا دوست بنادے گا۔ سو جناب والا! الحمد للہ کہ جو جو الفاظ حضور والا نے فرمائے تھے اسی طرح ظہور میں آگیا اور وہی دشمن بعد میں میرے لئے دوست اور سفارش کرنے والے بن گئے خدا نے حضور کی دعا سے اُن کا دل میری طرف پھیر دیا۔ ایک اور بڑا معجزہ حضور والا کی برکت سے یہ ظہور میں آیا کہ ممبران بالا کی طرف سے مجھ پر اعتراض ہوا تھا کہ ناصر شاہ نے کالج کا پاس نہیں کیا اور نہ کسی امتحان کی سند ہے اس لئے عہدہ کی ترقی کا کیونکر مستحق ہو سکتا ہے۔ ادھر یہ اعتراض تھا اور اس طرف سے حضور والا کا نامہ صادر ہوا کہ ہم نے جہاں تک ممکن تھا بہت دعا کی ہے سو جناب عالی وہی دن تھا جبکہ میری نسبت کا غذات کونسل میں پیش ہوئے اور صاحب بہادر نے میرے لئے بہت زور دے کر کہا اور عجیب تریہ کہ وہی مخالف میرے لئے سفارش کرنے والے تھے اور دلی دوستی