حقیقةُ الوحی — Page 313
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۱۳ حقيقة الوحى رسالہ حیات المسیح لکھا تھا اس کا یہ منقولہ تھا کہ اگر یہ طاعون مسیح موعود کی صداقت کا نشان ہے تو کیوں مجھ کو طاعون نہیں ہوتی ۔ آخر وہ طاعون سے پکڑا گیا اور اُس کے معین طاعون کے دنوں میں جمعہ کے روز مجھ کو الہام ہوا یموت قبل يومي هذا یعنی آئندہ جمعہ سے پہلے مر جائے گا چنانچہ وہ آئندہ جمعہ سے پہلے ۱۸ دسمبر ۱۹۰۲ء کو تر ۵ بجے صبح کے اس جہان فانی سے رخصت ہوا اور یہ میرا الہام اس کی موت سے پہلے شائع کیا گیا تھا اور الحکم میں بھی شائع ہو چکا ہے پھر ساتھ ہی مجھے یہ الہام ہوا سلام علیک یـا ابـراهـیـم۔ ســلام علـى امرک۔ صرت فائزا ۔ یعنی اے ابراہیم تیرے پر سلام تو فتح یاب ہو گیا۔ ۱۳۰ نشان۔ میں نے اپنے رسالہ انجام انتم میں بہت سے مخالف مولویوں کا نام لے کر مباہلہ کی طرف اُن کو بلایا تھا اور صفحہ ۶۶ رسالہ مذکور میں یہ لکھا تھا کہ اگر کوئی ان میں سے مباہلہ کرے تو میں یہ دعا کروں گا کہ ان میں سے کوئی اندھا ہو جائے اور کوئی مفلوج اور کوئی دیوانہ اور کسی کی موت سانپ کے کاٹنے سے ہو اور کوئی بے وقت موت سے مرجائے اور کوئی بے عزت ہو اور کسی کو مال کا نقصان پہنچے۔ پھر اگر چہ تمام مخالف مولوی مرد میدان بن کر مباہلہ کے لئے حاضر نہ ہوئے مگر پس پشت گالیاں دیتے رہے اور تکذیب کرتے رہے چنانچہ ان میں سے رشید احمد گنگوہی نے صرف لعنۃ اللہ علی الکاذبین نہیں کہا بلکہ اپنے ایک اشتہار میں مجھے شیطان کے نام سے پکارا ہے آخر نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ تمام بالمقابل مولویوں میں سے جو باون تھے آج تک صرف ہیں زندہ ہیں اور وہ بھی کسی نہ کسی بلا میں گرفتار، باقی سب فوت ہو گئے ۔ مولوی رشید احمد اندھا ہوا اور پھر سانپ کے کاٹنے سے مر گیا جیسا کہ مباہلہ کی دعا میں تھا۔ مولوی شاہ دین دیوانہ ہو کر مر گیا۔ مولوی غلام دستگیر خود اپنے مباہلہ سے مر گیا اور جو زندہ ہیں اُن میں سے کوئی بھی آفات متذکرہ بالا سے خالی نہیں حالانکہ ابھی انہوں نے مسنون طور پر مباہلہ نہیں کیا تھا۔ ۵۲