حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 312

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۱۲ حقيقة الوحى یقین سے بھر گئے ہیں جیسا کہ سمندر پانی سے بھرا ہوا ہے مگر افسوس کہ ہمارے مخالفوں کو اس آب زلال سے ایک قطرہ بھی نصیب نہیں ہوا۔ اس بدقسمتی کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔ کوئی قوم نہیں جس میں میرے نشان ظاہر نہیں ہوئے ۔ اور کوئی فرقہ نہیں جو میرے نشانوں کا گواہ نہیں۔ اگر ان نشانوں کے گواہ دس کروڑ بھی کہیں تو کچھ مبالغہ نہیں ہوگا مگر مخالفوں کے حال پر رونا آتا ہے کہ انہوں نے کچھ فائدہ نہ اٹھایا اگر یہ نشان جو اُن کو دکھلائے گئے حضرت عیسیٰ بن مریم کے وقت میں یہودیوں کو دکھلائے جاتے تو وہ ضربت عليهم الذلة کے مصداق نہ ہوتے۔ اور اگر لوط کی قوم ان نشانوں کا مشاہدہ کرتی تو وہ ایک بھاری زلزلہ سے زمین کے نیچے نہ دبائی جاتی مگر افسوس ان دلوں پر کہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوئے اور ہر ایک تاریکی سے زیادہ اُن کے دل کی تاریکی بڑھ گئی اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ زمانہ نے ہر ایک دنیوی سامان میں ترقی کی ایسا ہی کفر اور بے ایمانی میں بھی ترقی کی۔ پس یہ ترقی یافتہ کفر چاہتا ہے کہ کوئی معمولی عذاب اُن پر نازل نہ ہو بلکہ وہ عذاب نازل ہو جو ابتدائے دنیا سے آج تک کبھی نازل نہیں ہوا ۔ بہر حال ہم خدا کا ہزار ہزار شکر کرتے ہیں کہ جس روشنی کو مخالفوں نے قبول نہیں کیا اور اندھے رہے وہی روشنی ہماری بصارت اور معرفت کی زیادت کا موجب ہوگئی۔ شَرِبْنَا مِنْ عُيُونِ اللَّهِ مَاءًا بِوَحْي مُشْرِقِ حَتَّى رَوَينَا ہم نے خدا کے چشموں سے ایک پانی پیا جو روشن وحی کا پانی ہے یہاں تک کہ ہم سیراب ہو گئے رَأَيْنَا مِنْ جَلَالِ اللَّهِ شَمْسًا فَأَمَنَّا وَصَدَّقْنَايَقِيْنَا ہم نے خدا کی بزرگی کا ایک آفتاب دیکھا پس ہم ایمان لائے اور یقین کے ساتھ تصدیق کی تَجَلَّتْ مِنْهُ آيَ فِي قَطِيعِى وَأُخْرَى فِيْ عَشَائِرِ كَافِرِيْنَا اس کے ایک قسم کے نشان تو میری جماعت میں ظاہر ہوئے اور دوسرے قسم کے نشان کا فروں کے گروہ میں ظہور پذیر ہوئے ۱۲۹۔ نشان۔ مولوی رُسل بابا امرت سری جس نے میرے مقابل پر محض بیہودہ اور لغوطور پر