حقیقةُ الوحی — Page 309
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۰۹ حقيقة الوح عباس علی کی جس میں اُس نے اپنے ہاتھ سے میری یہ پیشگوئی لکھی ہے ( جو پوری ہوگئی ) وہ اب تک موجود ہے اور میں نے اُس کی وفات کے بعد اُس کو ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ سیاہ کپڑے پہنے ہوئے ہے ( جو سر سے پیر تک سیاہ ہیں ) اور مجھ سے قریباً سو قدم کے فاصلہ پر کھڑا ہے اور مجھ سے مدد کے طور پر کچھ مانگتا ہے میں نے جواب دیا کہ اب وقت گذر گیا (۲۹۲) اب ہم میں اور تم میں بہت فاصلہ ہے تو میرے تک پہنچ نہیں سکتا ۔ ۱۲۷ ۔ نشان ۔ ایک شخص سمج رام نام امرت سر کی کمشنری میں سر رشتہ دار تھا اور پہلے وہ ضلع سیالکوٹ میں صاحب ڈپٹی کمشنر کا سررشتہ دار تھا اور وہ مجھ سے ہمیشہ مذہبی بحث رکھا کرتا تھا اور دین اسلام سے فطرتاً ایک کینہ رکھتا تھا اور ایسا اتفاق ہوا کہ میرے ایک بڑے بھائی تھے انہوں نے تحصیلداری کا امتحان دیا تھا اور امتحان میں پاس ہو گئے تھے اور وہ ابھی گھر میں قادیان میں تھے اور نوکری کے امیدوار تھے ایک دن میں اپنے چوبارہ میں عصر کے وقت قرآن شریف پڑھ رہا تھا جب میں نے قرآن شریف کا دوسرا صفحہ اُلٹانا چاہا تو اسی حالت میں میری آنکھ کشفی رنگ پکڑ گئی اور میں نے دیکھا کہ سچ رام سیاہ کپڑے پہنے ہوئے اور عاجزی کرنے والوں کی طرح دانت نکالے ہوئے میرے سامنے آکھڑا ہوا جیسا کہ کوئی کہتا ہے کہ میرے پر رحم کرا دو۔ میں نے اس کو کہا کہ اب رحم کا وقت نہیں۔ اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ اسی وقت یہ شخص فوت ہو گیا ہے اور کچھ خبر نہ تھی ۔ بعد اس کے میں نیچے اترا۔ اور میرے بھائی کے پاس چھ سات آدمی بیٹھے ہوئے تھے اور ان کی نوکری کے بارہ میں باتیں کر رہے تھے میں نے کہا کہ اگر پنڈت سچ رام فوت ہو جائے تو وہ عہدہ بھی عمدہ ہے ان سب نے میری بات سن کر قہقہہ مار کر ہنسی کی کہ کیا چنگے بھلے کو مارتے ہو ۔ دوسرے دن یا تیسرے دن خبر آگئی کہ اُس گھڑی سچ رام ناگہانی موت سے اس دنیا سے گذر گیا۔ ۱۲۸ ۔ نشان۔ اار فروری ۱۹۰۶ء کو بنگالہ کی نسبت ایک پیشگوئی کی گئی تھی جس کے