حقیقةُ الوحی — Page 306
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۰۶ حقيقة الوح الا اے دشمن نادان و بے راہ بترس از تیغ بُران محمد الا اے منکر از شان محمد کرامت گرحہ نے نام و نشان است هم از نور نمایان محمد بیا بنگر ز غلمان محمد محمد کو کرامت دکھاتا ہے پس جبکہ لیکھرام کی زبان ہمارے نبی صلعم کو گالیاں دینے میں چھری کی طرح چلتی تھی اور اپنی زبان سے بار مجھےلکھا تھا کہ میں کرامت دیکھنا چاہتا ہوں اور اپنی کتابوں میں بھی بار بار بیان کیا تھا کہ مجھے کر امت دکھلا وگر خدا تعالیٰ جوحکیم ہے ہر ایک کے ہزار ہا دل اس نے زخمی کر دیئے تھے اس لئے خدا نے چھری کا ہی نشان دکھلایا اور اس کی بدزبانی ایک چھری مجسم ہو کر اس کے اندر داخل ہوئی اور انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ یہی خدا کا قہری نشان ہے جو سن سکتا ہے وہ سنے ! اور جب وہ زندہ تھا یہ بھی کہتا تھا کہ میں قبول نہیں کروں گا جب تک کوئی ستارہ آسمان سے نہ گرے۔ پس چونکہ وہ اپنے تئیں آریہ قوم کا ستارہ جانتا تھا اور قوم بھی اس کو ستارہ بیان کرتی تھی اس لئے وہ ستارہ گرا اور آریوں کے لئے اس کا گرنا بہت سخت ہوا جس سے ہر ایک گھر میں ماتم برپا ہو گیا۔ منہ