حقیقةُ الوحی — Page 294
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۹۴ حقيقة الوح انکار کریں تو حلف دینے سے وہ سچ سچ بیان کر سکتے ہیں اور جبکہ یہ پیشگوئی براہین احمد یہ کے صفحہ ۴۶۹ وصفحہ ۴۷ میں درج ہے اور ان آریوں کا حوالہ دیا گیا ہے تو عقل مند سوچ سکتا ہے کہ اگر وہ لوگ اس پیشگوئی کے گواہ رویت نہیں تھے تو با وجود سخت مخالف ہونے کے اس مدت تک اُن کا خاموش رہنا عقل تجویز نہیں کر سکتی وہ اُس زمانہ سے کہ جب سن عیسوی ۱۸۸۴ء تھا اس زمانہ تک کہ اب ۱۹۰۶ ء ہے باوجود علم اس بات کے کہ بار بار کتابوں اور اشتہاروں میں اُن کے نام بطور گواہوں کے ہم لکھ رہے ہیں کیوں خاموش ر ہے اُن کا حق تھا کہ ان تمام شہادتوں کی تکذیب کرتے جو براہین احمدیہ میں ان کی نسبت درج ہیں یا در ہے کہ تین ہندوؤں کی شہادتیں براہین احمدیہ میں پیشگوئیوں کے بارہ میں درج ہیں سب سے اول لالہ شرمیت کھتری دوسرا لالہ ملا وامل کھتری تیسر ا هند اس برہمن ہے اور براہین احمدیہ کی ہر ایک عبارت میں آریوں سے مُراد یہی لوگ ہیں بعض جگہ اور بھی ہیں اور اس پیشگوئی میں ایک انگریزی فقرہ ہے وہ بھی میرے لئے بطور نشان کے ہے کیونکہ میں انگریزی بالکل نہیں جانتا ۔ پس اس پیشگوئی کو خدا تعالیٰ نے اردو اور عربی اور انگریزی میں بیان کر کے ہر ایک طرح سے اس کی منشاء کو کھول دیا ہے اور یہ ایک بڑا نشان ہے مگر اُن کے لئے جن کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی نہیں۔ ۱۲۵۔ نشان۔ واضح ہو کہ من جملہ ہیبت ناک اور عظیم الشان نشانوں کے پنڈت لیکھرام (۲۲) کی موت کا نشان ہے جس کی بنیادی پیشگوئی کا سر چشمہ میری کتابیں برکات الدعا اور کرامات الصادقین اور آئینہ کمالات اسلام ہیں جن میں قبل از وقوع خبر دی گئی تھی کہ لیکھر ام قتل کے ذریعہ سے چھ سال کے اندر اس دنیا سے کوچ کر جائے گا اور اس کے قتل کئے جانے کا دن عید سے دوسرا دن ہوگا یعنی شنبہ کا دن اور یہ اس لئے مقرر کیا گیا کہ تا عید کا دن جو جمعہ تھا اس بات پر دلالت کرے کہ جس دن مسلمانوں کے گھر میں دو عیدیں ہوں گی اس سے دوسرے دن آریوں