حقیقةُ الوحی — Page 6
روحانی خزائن جلد ۲۲ میں آیا اور اُسی دن میں جیل خانہ میں داخل کیا گیا۔ اسی طرح امریکہ میں ایک شخص ان دنوں میں موجود ہے جس کا نام ڈوئی ہے اور اُس کا ایک اخبار بھی نکالتا ہے اور وہ حضرت عیسی کو خدا سمجھتا ہے اور الیاس نبی کا اوتارا اپنے تئیں خیال کرتا ہے اور مہم یعنی الہامی ہونے کا مدعی ہے اور اپنی خواہیں اور الہام لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے اس دعوے سے کہ بچے نکلے ہیں۔ اور اعتقاد اُس کا جیسا کہ میں نے بیان کیا یہ ہے کہ وہ ایک عاجز انسان کو رب العالمین سمجھتا ہے اور اُس کے چال چلن کی نسبت یہ کہنا کافی ہے کہ اُس کی ماں ایک زانیہ عورت تھی اور اُس کو خود اقرار ہے کہ وہ ولد الزنا ہے اور قوم کا موچی ہے اور ایک بھائی اُس کا آسٹریلیا میں موچی کا کام کرتا ہے اور یہ باتیں صرف دعوی نہیں بلکہ وہ تمام اخبارات اور چٹھیات ہمارے پاس موجود ہیں جن سے اُس کی یہ خاندانی حالت ثابت ہوتی ہے۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ جبکہ ایسی خوا ہیں اور ایسے الہام مختلف قسم کے لوگوں کو ہوتے رہتے ہیں بلکہ کبھی کبھی بچے بھی ہو جاتے ہیں۔ اور ایسے آدمی اس ملک میں پچاس سے بھی زیادہ ہیں جو الہام اور وحی کے مدعی ہیں اور ان لوگوں کا ایسا وسیع دائرہ ہے کہ کوئی شرط بچے مذہب اور نیک چلنی کی بھی نہیں تو اس صورت میں کوئی ایسا عقلمند نہ ہوگا کہ اس عقدہ کو حل کرنے کے لئے اپنے دل میں ضرورت محسوس نہ کرے کہ ما بہ الامتیاز کیونکر قائم ہو بالخصوص جبکہ اس بات کا بھی ثبوت ملتا ہے کہ باوجود اختلاف مذہب اور عقیدہ کے ہر ایک فرقہ کے لوگوں کو خوا ہیں اور الہام ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنی خوابوں اور الہاموں کے ذریعہ سے جھوٹا بھی قرار دیتے ہیں اور بعض خواہیں ہر ایک فرقہ کی بچی بھی ہو جاتی ہیں تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ حق کے طالبوں کی راہ میں یہ ایک خطر ناک پتھر ہے اور خاص کر ایسے لوگوں کیلئے یہ ایک زہر قاتل ہے جو خود مدعی الہام ہیں اور اپنے تئیں منجانب اللہ ہم خیال کرتے ہیں اور دراصل خدا تعالیٰ سے اُن کا کوئی تعلق نہیں اور وہ اس دھو کے سے جو کوئی خواب اُن کی سچی ہو جاتی ہے اپنے تئیں کچھ چیز سمجھتے ہیں اور اس طرح پر وہ سچائی کی طلب کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں بلکہ سچائی کو تحقیر اور توہین کی نظر سے