حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 5

روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الوح بھی پیش کرتے ہیں کہ وہ بچی بھی ہو گئیں تو ایسے تناقض اور با ہمی تکذیب اور انکار کو دیکھ کر وہ لوگ سخت ٹھوکر کھاتے ہیں کیونکہ جب خدا ایک ہے تو کیونکر ممکن ہے کہ وہ زید کو ایک الہام کرے اور پھر بکر کو اُس کے مخالف کہے اور پھر خالد کو کچھ اور ہی سنادے۔ اس سے تو نادانوں کو خدا کے وجود میں ہی شک پڑتا ہے۔ غرض یہ امور عام لوگوں کے لئے گھبراہٹ کی جگہ ہیں اور اُن کی نظر میں سلسلۂ نبوت اس سے مشتبہ ہو جاتا ہے اور اس مقام میں عام لوگوں کو حیرت میں ڈالنے والا ایک اور امر بھی ہے اور وہ یہ کہ بعض فاسق اور فاجر اور زانی اور ظالم اور غیر متدین اور چور اور حرام خور اور خدا کے احکام کے مخالف چلنے والے بھی ایسے دیکھے گئے ہیں کہ اُن کو بھی کبھی کبھی سچی خوا ہیں آتی ہیں۔ اور یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ بعض عورتیں جو قوم کی چوہڑی یعنی بھنگن تھیں جن کا پیشہ مردار کھانا اور ارتکاب جرائم کام تھا انہوں نے ہمارے رو بر و بعض خواہیں بیان کیں اور وہ بچی نکلیں۔ اس سے بھی عجیب تر یہ کہ بعض زانیہ عورتیں اور قوم کے کنجر جن کا دن رات زنا کاری کام تھا اُن کو دیکھا گیا کہ بعض خواہیں انہوں نے بیان کیں اور وہ پوری ہو گئیں اور بعض ایسے ہندوؤں کو بھی دیکھا کہ جو نجاست شرک سے ملوث اور اسلام کے سخت دشمن ہیں بعض خواہیں اُن کی جیسا کہ دیکھا تھا ظہور میں آگئیں ۔ چنانچہ عین اس رسالہ کی تحریر کے وقت ایک قادیان کا ہندو میرے پاس آیا جو قوم کا کھتری تھا اُس نے بیان کیا کہ فلاں سب پوسٹ ماسٹر کو میں نے دیکھا تھا کہ تبدیلی اُس کی ہوکر پھر ملتوی رہ گئی چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس ہندو نے مختلف وقتوں میں میرے پاس بیان کیا کہ کئی اور خوا ہیں بھی میری سچی ہوگئی ہیں مجھے معلوم نہیں کہ ایسے بیانات سے اُس کی کیا غرض تھی اور کیوں وہ بار بار اپنی خوا ہیں مجھے سناتا تھا کیونکہ وید کی رو سے تو خوابوں اور الہاموں پر مہر لگ گئی ہے ایسا ہی ایک بڑا بد ذات چور اور زانی بھی جو ہندو تھا اور قید میں ڈالا گیا تھا جیل سے رہائی پاکر کسی اتفاق سے مجھے ملا اور مجھے یاد ہے کہ کسی جرم سرقہ وغیرہ میں اُس کو کئی سال کی قید ہوئی تھی۔ اُس کا بیان ہے کہ جس صبح کو عدالت سے قید کی سزا کا حکم مجھے دیا جانا تھا جس حکم کی بظاہر کچھ بھی اُمید نہ تھی رات کو خواب میں میرے پر ظاہر کیا گیا کہ میں قید کیا جاؤں گا سوایسا ہی ظہور