حقیقةُ الوحی — Page 288
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۸۸ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ حقيقة الوح حضرت اقدس مرشدنا و مهدینا مسیح موعود و مہدی معہود الصلوۃ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ جناب عالی مجھے جو کچھ معلوم ہے خدمت میں عرض کرتا ہوں اور وہ یہ کہ جب کتاب أمهات المؤمنین عیسائیوں کی طرف سے اپریل ۱۸۹۸ء میں شائع ہوئی تھی تو انجمن حمایت اسلام لاہور کے ممبروں نے گورنمنٹ میں اس مضمون کا میموریل بھیجا تھا کہ اس کتاب کی اشاعت بند کی جائے اور اس کے مصنف سے جس نے ایسی گندی کتاب لکھی ہے باز پرس ہو۔ ان ایام میں یہ عاجز لاہور میں دفتر اکونٹنٹ جنرل میں ملازم تھا اور دو چار روز کے واسطے کسی رخصت کی تقریب پر قادیان آیا ہوا تھا جبکہ حضور کی خدمت میں اُن کے میموریل کا ذکر کیا گیا تو مجھے خوب یاد ہے کہ حضور بہت سے آدمیوں کے ساتھ جن میں حضرت مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے بھی تھے باغ کی طرف سیر کو جارہے تھے ۔ تب حضور نے فرمایا کہ یہ بات انجمن نے ٹھیک نہیں کی ۔ ہم اس میموریل کے سخت مخالف ہیں۔ چنانچہ حضور نے اس مخالفت کو اپنی ایک تحریر میں جو بصورت میموریل بخدمت گورنمنٹ بھیجی تھی صاف طور پر ۴ رمئی ۱۸۹۸ء کو شائع (۲۷۱) بھی کر دیا تھا جس پر انجمن والوں نے بہت شور مچایا اور اخباروں میں حضور کے برخلاف مضمون شائع کئے انہیں دنوں میں جب حضور باہر سیر کرنے کو گئے تو حضور نے فرمایا تھا کہ ہمیں انجمن حمایت اسلام لاہور کی اس کارروائی کے متعلق الہام ہوا ہے کہ متذكرون ما اقول لكم وافوض امری الی الله۔ اور اس کے ترجمہ اور تفہیم میں حضور نے فرمایا کہ عنقریب انجمن والے میری بات کو یاد کریں گے کہ اس طریق کے اختیار کرنے میں ناکامی ہے اور جس امر کو ہم نے اختیار کیا ہے یعنی مخالفین کے اعتراضات کو رد کرنا اور اُن کا جواب دینا اس امر کو خدا تعالیٰ کو سونپتا ہوں یعنی خدا میرے کام کا محافظ ہوگا مگر وہ ارادہ جو انجمن والوں نے کیا ہے کہ أمهات المؤمنین کے مؤلف کو سزا دلائیں اس میں اُن کو کامیابی ہرگز نہ ہوگی اور بعد میں اُن کو