حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 287

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۸۷ حقيقة الوح دیوار پر پڑتی ہے اور دیوار نہیں کہہ سکتی کہ میں سورج ہوں۔ اس لئے ہم دونوں ان تجلیات سے اپنے نفس کی کوئی ذاتی عزت نہیں نکال سکتے کیونکہ وہ حقیقی آفتاب کہہ سکتا ہے کہ مجھ سے الگ ہو کر پھر دیکھ کہ تجھ میں کون سی عزت ہے۔ اسی طرح عیسی نے ایک وقت میں تو یہ کہا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں اور دوسرے وقت بقول عیسائیوں کے شیطان کے پیچھے پیچھے پھرتا رہا اگر اُس میں حقیقی روشنی ہوتی تو یہ ابتلا اُس کو پیش نہ آتا۔ کیا شیطان خدا کی بھی آزمائش کر سکتا ہے۔ پس چونکہ عیسی انسان تھا اس لئے انسانی آزمائشیں اُس کو پیش آئیں اور عیسی کی دعاؤں میں بھی کوئی اقتدار نہ تھا صرف انسان کی طرح جناب الہی میں عجز و نیاز تھا یہی وجہ ہے کہ باغ والی دعا میں اس قدر وہ رویا کہ اُس کے کپڑے آنسوؤں سے بھر گئے مگر باوجود اس کے عیسائی کہتے ہیں کہ پھر بھی وہ دعا قبول نہ ہوئی لیکن ہم کہتے ہیں کہ وہ قبول ہوگئی اور خدا نے ۲۵۶) اُس کو صلیب سے بچالیا اور صرف یونس کی طرح قبر میں داخل ہوا اور یونس کی طرح زندہ ہی داخل ہوا اور زندہ ہی نکلا اُس کا رونا اور اُس کی روح کا گداز ہونا موت کے قائم مقام تھا ایسی دعائیں قبول ہوتی ہیں جیسی مریم کے بیٹے نے باغ میں کی کیو اس درگاہ بلند میں آساں نہیں دعا جو منگے سومر ر ہے مرے سومنگن جا ۱۲۰۔ نشان ۔ انجمن حمایت اسلام لاہور کے متعلق خدا نے میرے لئے ایک نشان ظاہر کیا تھا۔ چونکہ اس نشان کے اول گواہ مفتی محمد صادق صاحب اڈیٹر اخبار بدر ہیں اس لئے انہیں کے ہاتھ کا خط بطور شہادت ذیل میں درج کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے: مجھے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی نے اپنے سولی دیئے جانے کی نسبت کوئی خواب دیکھی ہوگی اس لئے ان کے دل میں یہ خوف دامنگیر ہوا کہ اگر میں سولی دیا گیا تو شریر یہودی لعنتی ہونے کی تہمت میرے پر لگائیں گے پس اسی وجہ سے انہوں نے جان تو ڑ کر دعا کی اور وہ دعا قبول ہوگئی اور خدا نے اس تقدیر کو اس طرح بدل دیا کہ بنگتن سولی پر چڑھائے گئے، قبر میں بھی داخل کئے گئے مگر یونس کی طرح زندہ ہی داخل ہوئے اور زندہ ہی نکلے۔ نبی بہادر ہوتے ہیں ذلیل یہودیوں کا ان کو خوف نہ تھا۔ منہ