حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 286

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۸۶ حقيقة الوح اور علماء اسلام جواب تو دیتے تھے مگر سچ بات تو یہ ہے کہ پیشگوئیوں اور خوارق کے منکر کا جواب دینا اُسی شخص کا کام ہے جو پیشگوئی دکھلا بھی سکے ورنہ محض باتوں سے یہ تنازع فیصلہ پاتا نہیں ۔ پس جبکہ پادریوں کی تکذیب انتہا تک پہنچ گئی تو خدا نے حجت محمد یہ پوری کرنے کے لئے مجھے بھیجا۔ اب کہاں ہیں پادری تا میرے مقابل پر آویں۔ میں بے وقت نہیں آیا۔ میں اُسوقت آیا کہ جب اسلام عیسائیوں کے پیروں کے نیچے کچلا گیا۔اے آنکھوں کے اندھو! تمہیں سچائی کا مخالف بننا کس نے سکھلایا! دین تباہ ہو گیا اور بیرونی حملوں اور اندرونی بدعات نے تمام اعضاء دین کے زخمی کر دئے اور صدی میں سے بھی تیئیس برس گذر گئے اور کئی لاکھ مسلمان مرتد ہو کر خدا اور رسول کے دشمن ہو گئے مگر تم کہتے ہو کہ اس وقت کوئی خدا کی طرف سے تو نہیں مگر دجال آیا بھلا اب کوئی پادری تو میرے سامنے لاؤ جو یہ کہتا ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی پیشگوئی نہیں کی ۔ یا درکھو کہ وہ زمانہ مجھے سے پہلے ہی گزر گیا اب وہ زمانہ آ گیا جس میں خدا یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ رسول محمد عربی جس کو گالیاں دی گئیں جس کے نام کی بے عزتی کی گئی جس کی تکذیب میں بد قسمت پادریوں نے کئی لاکھ کتابیں اس زمانہ میں لکھ کر شائع کر دیں وہی سچا اور بچوں کا سردار ہے اُس کے قبول میں حد سے زیادہ انکار کیا گیا مگر آخر اُسی رسول کو تاج عزت پہنایا گیا اُس کے غلاموں اور خادموں میں سے ایک میں ہوں جس سے خدا مکالمه مخاطبہ کرتا ہے اور جس پر خدا کے غیوں اور نشانوں کا دروازہ کھولا گیا ہے۔اے نا دانو ! تم کفر کہو یا کچھ کہو تمہاری تکفیر کی اُس شخص کو کیا پر وا ہے جو خدا کے حکم کے موافق دین کی خدمت میں مشغول ہے اور اپنے پر خدا کی عنایات کو بارش کی طرح دیکھتا ہے وہ خدا جو مریم کے بیٹے کے دل پر اترا تھا وہی میرے دل پر بھی اُترا ہے مگر اپنی جھلی میں اُس سے زیادہ ۔ وہ بھی بشر تھا اور میں بھی بشر ہوں اور جس طرح دھوپ اس کے متعلق ایک الہامی شعر بھی ہے جو یہ ہے ؎ بر ترگمان و و ہم سے احمد کی شان ہے جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے۔ منہ برتر وو