حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 4

روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الوح کے درجہ پر پہنچ جاتے ہیں اُن پر شیطان تسلط نہیں پا سکتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن ۔ سو ان کی یہ نشانی ہے کہ خدا کے فضل کی بارشیں اُن پر ہوتی ہیں اور خدا کی قبولیت کی ہزاروں علامتیں اور نمونے اُن میں پائے جاتے ہیں جیسا کہ ہم اس رسالہ میں انشاء اللہ ذکر کریں گے۔ لیکن افسوس کہ اکثر لوگ ایسے ہیں کہ ابھی شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہیں مگر پھر بھی اپنی خوابوں اور الہاموں پر بھروسہ کر کے اپنے ناراست اعتقادوں اور ناپاک مذہبوں کو ان خوابوں اور الہاموں سے فروغ دینا چاہتے ہیں بلکہ بطور شہادت ایسی خوابوں اور الہاموں کو پیش کرتے ہیں اور یا یہ نیت رکھتے ہیں کہ ایسی خوابوں اور الہاموں کو پیش کر کے بچے مذہب کی اُن سے تحقیر کریں یا لوگوں کی نظر میں خدا کے پاک نبیوں کو معمولی انسانوں کی طرح دکھاویں اور یا یہ دکھاویں کہ اگر خوابوں اور الہاموں کے ذریعہ سے کسی مذہب کی سچائی ثابت ہوسکتی ہے تو پھر ہمارے مذہب اور طریق کو سچا مان لیا جائے۔ اور بعض ایسے بھی ہیں کہ وہ اپنی خوابوں اور الہاموں کو اپنے مذہب کی سچائی کیلئے پیش نہیں کرتے۔ اور اُن کا ایسی خوابوں اور الہاموں کے بیان کرنے سے صرف یہ مطلب ہوتا ہے کہ خواب اور الہام کسی بچے مذہب یا سچے انسان کی شناخت کے لئے معیار نہیں ہیں اور بعض محض فضولی اور فخر کے طور پر اپنی خوا ہیں سناتے ہیں۔ اور بعض ایسے بھی ہیں کہ چند خوا ہیں یا الہام اُن کے جو اُن کے نزدیک سچے ہو گئے ہیں ان کی بنا پر وہ اپنے تئیں اماموں یا پیشواؤں یا رسولوں کے رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ یہ وہ خرابیاں ہیں جو اس ملک میں بہت بڑھ گئی ہیں اور ایسے لوگوں میں بجائے دینداری اور راستبازی کے بے جا تکبر اور غرور پیدا ہو گیا ہے۔ اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ حق اور باطل میں فرق کرنے کے لئے یہ رسالہ لکھوں کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ بعض کم فہم لوگ ایسے لوگوں کی وجہ سے ابتلا میں پڑتے ہیں خصوصاً جب وہ دیکھتے ہیں کہ مثلاً زید اپنی خواب اور الہام پر بھروسہ کر کے بکر کو جو اس کے مقابل پر ایک دوسرا ملہم ہے کا فرٹھہرتا ہے اور خالد جو ایک تیسر الہم ہے دونوں پر کفر کا فتویٰ لگاتا ہے اور عجب تریہ کہ تینوں اپنی خوابوں اور الہاموں کے سچا ہونے کا دعوی بھی کرتے ہیں اور اپنی بعض پیشگوئیوں کی نسبت یہ شہادتیں الحجر: ۴۳ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” ٹھہراتا ہونا چاہیے۔(ناشر)