حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 273

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۷۳ حقيقة الوح بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ جس روز اس مقدمہ کا اخیر حکم سنایا جانا تھا ہماری طرف سے کوئی ﴿۲۶﴾ شخص حاضر نہ ہوا اور فریق ثانی جو شاید پندرہ یا سولہ آدمی تھے حاضر ہوئے ۔ عصر کے وقت اُن سب نے واپس آکر بازار میں بیان کیا کہ مقدمہ خارج ہو گیا ۔ تب وہی شخص مسجد میں میرے پاس دوڑتا آیا اور طنزاً کہا کہ لو صاحب آپ کا مقدمہ خارج ہو گیا۔ میں نے کہا کہ کس نے بیان کیا اُس نے جواب دیا کہ سب مدعا علیھم آگئے ہیں اور بازار میں بیان کر رہے ہیں۔ یہ سنتے ہی میں حیرت میں پڑ گیا کیونکہ خبر دینے والے پندرہ آدمی سے کم نہ تھے اور بعض اُن میں سے مسلمان اور بعض ہندو تھے ۔ تب جو کچھ مجھے کو فکر اور غم لاحق ہوا اُس کو میں بیان نہیں کر سکتا وہ ہند و تو یہ بات کہہ کر خوش خوش بازار کی طرف چلا گیا گویا اسلام پر حملہ کرنے کا ایک موقعہ اُس کو مل گیا مگر جو کچھ میرا حال ہوا اُس کا بیان کرنا طاقت سے باہر ہے ۔ عصر کا وقت تھا میں مسجد کے ایک گوشہ میں بیٹھ گیا اور دل سخت پریشان تھا کہ اب یہ ہندو ہمیشہ کے لئے یہ کہتا رہے گا کہ کس قدر دعوے سے ڈگری ہونے کی پیشگوئی کی تھی اور وہ جھوٹی نکلی ۔ اتنے میں غیب سے ایک آواز گونج کر آئی اور آواز اس قدر بلند تھی کہ میں نے خیال کیا کہ باہر سے کسی آدمی نے آواز دی ہے آواز کے یہ لفظ تھے کہ ڈگری ہوگئی ہے مسلمان ہے! یعنی کیا تو باور نہیں کرتا۔ تب میں نے اُٹھ کر مسجد کے چاروں طرف دیکھا تو کوئی آدمی نہ پایا۔ تب یقین ہو گیا کہ فرشتہ کی آواز ہے۔ میں نے اُس ہندو کو پھر اُسی وقت بلایا اور فرشتہ کی آواز سے اُس کو اطلاع دی مگر اُس کو باور نہ آیا صبح میں خود بٹالہ کی تحصیل میں گیا اور تحصیل دار حافظ ہدایت علی نام ایک شخص تھا وہ اُس وقت ابھی تحصیل میں نہیں آیا تھا اُس کا مثل خواں متھر اداس نام ایک ہند و موجود تھا میں نے اُس سے دریافت کیا کہ کیا ہمارا مقدمہ خارج ہو گیا ؟ اُس نے کہا کہ نہیں بلکہ ڈگری ہوگئی میں نے کہا کہ فریق مخالف نے قادیان میں جا کر یہ مشہور کر دیا ہے کہ مقدمہ خارج ہو گیا ہے اُس نے کہا کہ ایک طور سے انہوں نے بھی سچ کہا ہے ، بات یہ ہے کہ جب تحصیل دار فیصلہ لکھ رہا تھا تو میں ایک ضروری حاجت کے لئے اس کی پیشی سے اُٹھ کر چلا گیا تھا۔ تحصیل دار نیا تھا اُس کو مقدمہ کی