حقیقةُ الوحی — Page 267
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۶۷ حقيقة الوح معلوم ہوا کہ خدا نے اُن کی زندگی کے پندرہ دن پندرہ سال سے بدل دیئے ہیں۔ یہ ہے (۲۵۵) ہمارا خدا جو اپنی پیشگوئیوں کے بدلانے پر بھی قادر ہے مگر ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ قادر نہیں۔ نشان ۱۰۶- ایک دفعہ تمثی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے کئی پیشگوئیاں لکھیں جن کا یہ مطلب تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لئے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے سرخی کے قلم سے اُس پر دستخط کئے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو چھڑ کا جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے تو اسی طرح پر جھاڑ دیتے ہیں اور پھر دستخط کر دیئے اور میرے پر اُس وقت نہایت رقت کا عالم تھا اس خیال سے کہ کس قد ر خدا تعالیٰ کا میرے پر فضل اور کرم ہے کہ جو کچھ میں نے چاہا بلا توقف اللہ تعالیٰ نے اُس پر دستخط کر دیئے اور اُسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور اُس وقت میاں عبد اللہ سنوری مسجد کے حجرہ میں میرے پیر دبا رہا تھا کہ اُس کے رو بر وغیب سے سرخی کے قطرے میرے گرتے اور اُس کی ٹوپی پر بھی گرے اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سُرخی کے قطرے گرنے اور قلم کے جھاڑنے کا ایک ہی وقت تھا ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہ تھا ایک غیر آدمی اس راز کو نہیں سمجھے گا اور شک کرے گا کہ کیونکر اس کو صرف ایک خواب کا معاملہ محسوس ہو گا مگر جس کو روحانی امور کا علم ہو وہ اس میں شک نہیں کر سکتا اسی طرح خدا نیست سے ہست کر سکتا ہے۔ غرض میں نے یہ سارا قصہ میاں عبد اللہ کو سنایا اور اُس وقت میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ عبداللہ جو ایک رویت کا گواہ ہے اس پر بہت اثر ہوا اور اُس نے میرا کر نہ بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا جواب تک اُس کے پاس موجود ہے۔ ۱۰۷۔ کئی مرتبہ زلزلوں سے پہلے اخباروں میں میری طرف سے شائع ہو چکا ہے کہ دنیا میں بڑے بڑے زلزلے آئیں گے یہاں تک کہ زمین زیر وزبر ہو جائے گی۔ پس وہ زلزلے جو سان فرانسسکو اور فارموسا وغیرہ میں میری پیشگوئی کے مطابق آئے وہ تو سب کو معلوم ہیں لیکن حال میں ۶ ارا گست ۱۹۰۶ء کو جو جنوبی حصہ امریکہ یعنی چلی کے صوبہ میں ایک سخت زلزلہ آیا وہ پہلے زلزلوں سے کم نہ تھا جس سے پندرہ چھوٹے بڑے شہر اور قصبے برباد ہو گئے اور ہزار ہا جانیں تلف ہوئیں اور