حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 266

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۶۶ حقيقة الوح ۲۵۴) نسبت مجھے خواب میں دکھلایا گیا کہ ان کی زندگی کے تھوڑے دن رہ گئے ہیں جو زیادہ سے زیادہ پندرہ دن ہیں بعد میں وہ یک دفعہ سخت بیمار ہو گئے یہاں تک کہ صرف استخوان باقی رہ گئیں اور اس قد رد بلے ہو گئے کہ چارپائی پر بیٹھے ہوئے نہیں معلوم ہوتے تھے کہ کوئی اس پر بیٹھا ہوا ہے یا خالی چار پائی ہے پاخانہ اور پیشاب او پر ہی نکل جاتا تھا اور بیہوشی کا عالم رہتا تھا۔ میرے والد صاحب میرزا غلام مرتضیٰ مرحوم بڑے حاذق طبیب تھے انہوں نے کہ دیا کہ اب یہ حالت یاس اور نومیدی کی ہے صرف چند روز کی بات ہے مجھ میں اس وقت جوانی کی قوت موجود تھی اور مجاہدات کی طاقت تھی اور میری فطرت ایسی واقع ہے کہ میں ہر ایک بات پر خدا کو قادر جانتا ہوں اور در حقیقت اس کی قدرتوں کا کون انتہا پا سکتا ہے اور اُس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں بجز اُن امور کے جو اس کے وعدہ کے برخلاف یا اُس کی پاک شان کے منافی اور اُس کی توحید کی ضد ہیں۔ اس لئے میں نے اس حالت میں بھی اُن کے لئے دعا کرنی شروع کی اور میں نے دل میں یہ مقرر کر لیا کہ اس دعا میں میں تین باتوں میں اپنی معرفت زیادہ کرنا چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا میں حضرت عزت میں اس لائق ہوں کہ میری دعا قبول ہو جائے دوسری یہ کہ کیا خواب اور الہام جو وعید کے رنگ میں آتے ہیں اُن کی تاخیر بھی ہو سکتی ہے یا نہیں۔ تیسری یہ کہ کیا اس درجہ کا بیمار جس کی صرف استخوان باقی ہیں دعا کے ذریعہ سے اچھا ہو سکتا ہے یا نہیں ۔ غرض میں نے اس بناء پر دعا کرنی شروع کی پس قسم ہے مجھے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ دعا کے ساتھ ہی تغیر شروع ہو گیا اور اس اثنا میں ایک دوسرے خواب میں میں نے دیکھا کہ وہ گویا اپنے دالان میں اپنے قدموں سے چل رہے ہیں اور حالت یہ تھی کہ دوسرا شخص کروٹ بدلتا تھا جب دعا کرتے کرتے پندرہ دن گزرے تو اُن میں صحت کے ایک ظاہری آثار پیدا ہو گئے اور انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ میرا دل چاہتا ہے کہ چند قدم چلوں چنانچہ وہ کسی قدر سہارے سے اُٹھے اور سوٹے کے سہارے سے چلنا شروع کیا اور پھر سوٹا بھی چھوڑ دیا چند روز تک پورے تندرست ہو گئے اور بعد اس کے پندرہ برس تک زندہ رہے اور پھر فوت ہو گئے جس سے