حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 265 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 265

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۶۵ حقيقة الوح جو گویا دنیا میں نہیں تھا۔ اور وہ زمانہ جب یہ پیشگوئی کی گئی اُس پر اب قریباً تمہیں برس گذر (۲۵۳) گئے اب دیکھنا چاہیے کہ یہ پیشگوئی کس صفائی سے پوری ہوئی جو اس وقت ہزار ہا آدمی میری جماعت کے حلقہ میں داخل ہیں اور اس سے پہلے کون جانتا تھا کہ اس قدر میری عظمت دنیا میں پھیلے گی پس افسوس اُن پر جو خدا کے نشانوں پر غور نہیں کرتے ۔ پھر اس پیشگوئی میں جس کثرت نسل کا وعدہ تھا اُس کی بنیاد بھی ڈالی گئی کیونکہ اس پیشگوئی کے بعد چار فرزند نرینہ اور ایک پوتہ اور دو لڑکیاں میرے گھر میں پیدا ہوئیں جو اُس وقت موجود نہ تھیں۔ ۱۰۳۔ ایک سو تین نشان ۔ ایک دفعہ طاعون کے زور کے دنوں میں جب قادیان میں بھی طاعون تھی مولوی محمد علی صاحب ایم اے کو سخت بخار ہو گیا اور اُن کو ظن غالب ہو گیا کہ یہ طاعون ہے اور انہوں نے مرنے والوں کی طرح وصیت کر دی اور مفتی محمد صادق صاحب کو سب کچھ سمجھا دیا اور وہ میرے گھر کے ایک حصہ میں رہتے تھے جس گھر کی نسبت خدا تعالیٰ کا یہ الہام ہے۔ انی احافظ كلّ من فی الدار۔ تب میں اُن کی عیادت کے لئے گیا اور اُن کو پریشان اور گھبراہٹ میں پا کر میں نے اُن کو کہا کہ اگر آپ کو طاعون ہو گئی ہے تو پھر میں جھوٹا ہوں اور میرا دعویٰ الہام غلط ہے یہ کہہ کر میں نے ان کی نبض پر ہاتھ لگایا۔ یہ عجیب نمونہ قدرت الہی دیکھا کہ ہاتھ لگانے کے ساتھ ہی ایسا بدن سرد پایا کہ تپ کا نام ونشان نہ تھا۔ ۱۰۴۔ ایک سو چار نشان۔ ایک دفعہ میرا چھوٹا لڑکا مبارک احمد بیمار ہو گیا غشی پر غشی پڑتی تھی اور میں اُس کے قریب مکان میں دعا میں مشغول تھا اور کئی عور تیں اُس کے پاس بیٹھی تھیں که یک دفعہ ایک عورت نے پکار کر کہا کہ اب بس کرو کیونکہ لڑکا فوت ہو گیا تب میں اُس کے پاس آیا اور اُس کے بدن پر ہاتھ رکھا اور خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کی تو دو تین منٹ کے بعد لڑ کے کو سانس آنا شروع ہو گیا اور نبض بھی محسوس ہوئی اور لڑ کا زندہ ہو گیا۔ تب مجھے خیال آیا کہ عیسی علیہ السلام کا احیاء موتی بھی اسی قسم کا تھا اور پھر نادانوں نے اس پر حاشیے چڑھادیئے۔ ۱۰۵۔ ایک سو پانچواں نشان ۔ ایک دفعہ میرے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی