حقیقةُ الوحی — Page 252
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۵۲ حقيقة الوحى بہر حال مباہلہ میں جو اُس نے چاہا کہا مگر میری دعا کا مرجع میرا ہی نفس تھا اور میں جناب الہی میں یہی التجا کر رہا تھا کہ اگر میں کا ذب ہوں تو کا ذبوں کی طرح تباہ کیا جاؤں اور اگر میں صادق ہوں تو خدا میری مدد اور نصرت کرے اس بات کو گیارہ برس گزر گئے جب یہ مباہلہ ہوا تھا بعد اس کے جو کچھ خدا نے میری نصرت اور مدد کی میں اس مختصر رسالہ میں اُس کو بیان نہیں کر سکتا یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ جب مباہلہ کیا گیا تو میرے ساتھ صرف چند آدمی تھے جو انگلیوں پر شمار ہو سکتے تھے اور اب تین لاکھ سے بھی کچھ زیادہ میری بیعت کر چکے ہیں اور مالی مشکلات اس قدر تھے کہ میں روپیہ ماہوار بھی نہیں آتے تھے اور قرضہ لینا پڑتا تھا اور اب میرے سلسلہ کی تمام شاخوں سے قریباً تین ہزار روپیہ ماہواری آمدنی ہے۔ اور خدا نے اس کے بعد بڑے بڑے قومی نشان دکھلائے جس نے مقابلہ کیا آخر وہ تباہ ہوا جیسا کہ ان نشانوں کے دیکھنے سے جو محض بطور نمونہ اس جگہ لکھے گئے ہیں ظاہر ہوگا کہ خدا نے کیسی ۲۴۱ کیسی میری مدد کی۔ ایسے ہی ہزار ہا نشان نصرت الہی کے ظاہر ہو چکے ہیں جو صرف اُن میں سے اس قدر بطور نمونہ اس جگہ لکھے گئے اگر کسی شخص میں حیا اور انصاف ہو تو اُس کے لئے سید نشان میری تصدیق کے لئے کافی ہیں۔ اور یہ حجت اُٹھانا کہ آٹھم میعاد کے اندر نہیں مرا اور یہ کہ عیسائیوں نے بہت گالیاں دیں اور بہت شوخی کی تو سمجھنا چاہیے کہ کیا عیسائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہیں دیتے ٹھٹھا نہیں کرتے اور کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین میں ہزاروں بلکہ لاکھوں کتابیں اب تک لکھ نہیں چکے اور ہنسی ٹھٹھے کو انتہا تک نہیں پہنچا دیا تو کیا ان بد قسمت لوگوں کی ان حرکات سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت مشتبہ ہو گئی یا آپ کی اس سے کچھ رسوائی ہوئی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُحَسْرَةٌ عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيْهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ با یعنی کوئی ایسا رسول نہیں آیا جس سے جاہل آدمیوں نے ٹھٹھا نہیں کیا۔ دیکھنا تو یہ چاہیے کہ کیا ٹھٹھا کرنے میں وہ حق بجانب تھے یا محض شیطنت اور شرارت تھی۔ یہ امر ثابت شدہ ہے کہ آتھم پیشگوئی کے مطابق چند روز يس : ٣١