حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 243

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۴۳ حقيقة الوحى آج سے پچیس برس پہلے درج ہے اور وہ یہ ہے فَبَرَّاهُ الله مما قالوا وكان عند الله وجيها یعنی خدا نے اُس الزام سے اُس کو بری کیا جو اُس پر لگایا گیا تھا اور وہ خدا کے نزدیک وجیہ ہے۔ ۸۲ ۔ بیاسی واں نشان ۔ یہ پیشگوئی ہے جو بار ہا میرے رسالوں میں درج ہو چکی ہے یہ ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بانفسهم انه اوى القرية۔ يعنى خدا اس طاعون کو اس قوم سے دور نہیں کرے گا اور اپنا ارادہ نہیں بدلائے گا جب تک لوگ اپنے دلوں کی حالت نہ بدلا لیں اور خدا انجام کا راس گانو کو اپنی پناہ میں لے لے گا۔ اور فرمایا کہ لو لا الاكرام لهلك المقام۔ یعنی اگر میں تمہاری عزت کا پاس نہ کرتا تو میں اس تمام گا نو کو ہلاک کر دیتا اور اُن میں سے ایک بھی نہ چھوڑتا اور فرمایا وما كان الله ليعذبهم وانت فيهم اور خدا ایسا نہیں ہے کہ ان سب کو عذاب سے ہلاک کر دیتا حالانکہ تو انہیں میں رہتا ہے (۲۳۲) یادر ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ فقرہ کہ انۀ اوی القربة اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا تعالی کسی قدر عذاب کے بعد اس گانو کو اپنی پناہ میں لے لے گا ۔ یہ معنی نہیں ہیں کہ ہر گز اس میں طاعون نہیں آئے گی۔ اویٰ کا لفظ عربی زبان میں اُس پناہ دینے کو کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی حد تک مصیبت رسیدہ ہو کر پھر امن میں آجاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيْما فاوی لایعنی خدا نے تجھے یتیم پایا اور قیمی کے مصائب میں تجھے مبتلا دیکھا پھر پناہ دی اور جیسا کہ فرماتا ہے أُوَيْنَهُمَا إِلى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِينٍ ! یعنی ہم نے عیسیٰ اور اُس کی ماں کو بعد اس کے جو یہودیوں نے اُن پر ظلم کیا اور حضرت عیسی کو سولی دینا چاہا ہم نے عیسی اور اس کی ماں کو پناہ دی اور دونوں کو ایک ایسے پہاڑ پر پہنچا دیا جو سب پہاڑوں سے اونچا تھا یعنی کشمیر کا پہاڑ جس میں خوش گوار پانی تھا اور بڑی آسائش اور آرام کی جگہ تھی اور جیسا کہ سورۃ الکہف میں یہ آیت ہے فاوا إِلَى الْكَهْفِ يَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ رَّحْمَتِهِ " الجز و نمبر ۱۵ سورہ کہف یعنی غار کی پناہ میں آجاؤ اس طرح پر خدا اپنی رحمت تم پر پھیلائے گا یعنی تم ظالم بادشاہ کی ایڈا سے نجات پاؤ گے۔ غرض اوی کا لفظ ہمیشہ اس موقع پر آتا ہے کہ جب ایک شخص کسی الضحى المؤمنون: ۵۱ الكهف:۱۷