حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 242

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۴۲ حقيقة الوح یہ انسان کا کاروبار ہوتا اور خدا کی مرضی کے مخالف ہوتا تو وہ اپنی کوششوں میں نا مراد نہ رہتے۔ کس نے اُن کو نا مرا در کھا ؟ اُسی خدا نے جو میرے ساتھ ہے۔ ۸۱۔ اکاسی واں نشان۔ براہین احمدیہ میں ایک یہ بھی پیشگوئی ہے یعصمک الله من عنده ولو لم يعصمك الناس یعنی خدا تجھے آپ تمام آفات سے بچائے گا اگر چہ لوگ نہیں چاہیں گے کہ تو آفات سے بچ جائے۔ یہ اس زمانہ کی پیشگوئی ہے جبکہ میں ایک زاویہ گمنامی میں پوشیدہ تھا اور کوئی مجھ سے نہ تعلق بیعت رکھتا تھا نہ عداوت۔ بعد اس کے جب مسیح موعود ہونے کا دعوئی میں نے کیا تو سب مولوی اور اُن کے ہم جنس آگ کی طرح ہو گئے اُن دنوں میں میرے پر ایک پادری ڈاکٹر مارٹن کلارک نام نے خون کا مقدمہ کیا اس ۲۳۱ مقدمہ میں مجھے یہ تجربہ ہو گیا کہ پنجاب کے مولوی میرے خون کے پیاسے ہیں اور مجھے ایک عیسائی سے بھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے اور گالیاں نکالتا ہے بدتر سمجھتے ہیں کیونکہ بعض مولویوں نے اس مقدمہ میں میرے مخالف عدالت میں حاضر ہو کر اس پادری کے گواہ بن کر گواہیاں دیں اور بعض اس دعا میں لگے رہے کہ پادری لوگ فتح پاویں۔ میں نے معتبر ذریعہ سے سنا ہے کہ وہ مسجدوں میں رو رو کر دعائیں کرتے تھے کہ اے خدا اس پادری کی مدد کر اُس کو فتح دے مگر خدائے علیم نے اُن کی ایک نہ سنی۔ نہ گواہی دینے والے اپنی گواہی میں کامیاب ہوئے اور نہ دعا کرنے والوں کی دعائیں قبول ہوئیں۔ یہ علماء ہیں دین کے حامی اور یہ قوم ہے جس کے لئے لوگ قوم قوم پکارتے ہیں۔ ان لوگوں نے میرے پھانسی دلانے کے لئے اپنے تمام منصوبوں سے زور لگایا اور ایک دشمن خدا اور رسول کی مدد کی ۔ اور اس جگہ طبعا دلوں میں گذرتا ہے کہ جب یہ قوم کے تمام مولوی اور اُن کے پیرو میرے جانی دشمن ہو گئے تھے پھر کس نے مجھے اُس بھڑکتی ہوئی آگ سے بچایا حالانکہ آٹھ ، نو گواہ میرے مجرم بنانے کے لئے گذر چکے تھے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اُسی نے بچایا جس نے چھپیں برس پہلے یہ وعدہ دیا تھا کہ تیری قوم تو تجھے نہیں بچائے گی اور کوشش کرے گی کہ تو ہلاک ہو جائے مگر میں تجھے بچاؤں گا جیسا کہ اُس نے پہلے سے فرمایا تھا جو براہین احمدیہ میں ۹۸