حقیقةُ الوحی — Page 236
روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الوح ۲۲۵ اور پھر کتاب اعجاز احمدی میں یہ پیشگوئی تھی۔ اذا ما غضبنا غاضب الله صائِلا على معتد يؤذى و بالسوء يجهر جب ہم غضبناک ہوں تو خدا اُس شخص پر غضب کرتا ہے جو حد سے بڑھ جاتا ہے اور کھلی کھلی بدی پر آمادہ ہوتا ہے ویاتی زمان كاسر كُل ظالم وهل يهلكن اليوم الا المدمر اور وہ زمانہ آرہا ہے کہ ہر ایک ظالم کو توڑے گا اور وہی ہلاک ہوں گے جو اپنے گناہوں کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں وانـي لـشـر الـنـاس ان لم يكن لهم جزاء اهانتهم صغار يصغر اور میں سب بد لوگوں سے بدتر ہوں گا اگر اُن کے لئے ان کی اہانت کی جزا اہانت نہ ہو قضى الله ان الطعن بالطعن بيننا فذالك طـاعــون اتـاهـم ليبصروا خدا نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ طعن کا بدلہ طعن ہے پس وہی طاعون ہے جو اُن کو پکڑے گی ولما طغى الفسق المبيد بسيله تمنيت لو كان الوباء المتبر اور جب فسق ہلاک کرنے والا حد سے بڑھ گیا تو میں نے آرزو کی کہ اب ہلاک کرنے والی طاعون چاہئے اور اس کے بعد یہ الہام ہوا ۔ ع اے بسا خانہ دشمن کہ تو ویران کر دی۔ اور یہ الحکم اور البدر میں شائع کیا گیا اور پھر مذکورہ بالا دعائیں جو دشمنوں کی سخت ایڈا کے بعد کی گئیں جناب الہی میں قبول ہو کر پیشگوئیوں کے مطابق طاعون کا عذاب اُن پر آگ کی طرح برسا اور کئی ہزار دشمن جو میری تکذیب کرتا اور بدی سے نام لیتا تھا ہلاک ہو گیا لیکن اس جگہ ہم نمونہ کے طور پر چند سخت مخالفوں کا ذکر کرتے ہیں ۔ چنانچہ سب سے پہلے مولوی رسل بابا باشندہ امرتسر ذکر کے لائق ہے جس نے میرے رد میں کتاب لکھی اور بہت سخت زبانی دکھلائی اور چند روزہ زندگی سے پیار کر کے جھوٹ بولا آخر خدا کے وعدہ کے موافق طاعون سے ہلاک ہوا ۔ پھر بعد اس کے ایک شخص محمد بخش نام جو ڈ پٹی انسپکٹر بٹالہ تھا عداوت اور ایذا پر کمر بستہ ہوا وہ بھی طاعون سے ہلاک ہوا۔ پھر بعد اس کے ایک شخص چراغ دین نام ساکن جموں اٹھا جو رسول ہونے کا دعوی کرتا تھا جس نے لا یہ پیشگوئی حمامة البشری میں ہے ۔ منہ